read

5۔ اقتداء

874
۔ رسول اکرم! جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ میری طرح کی حیات و موت نصیب ہو اور جنت عدن میں ساکن ہوجائے جسے میرے پروردگار نے تیار کیا ہے تو اسے چاہیئے کہ میرے بعد علی (ع) اور ان کے چاہنے والوں سے محبت کرے اور میرے بعد ائمہ کی اقتدا کرے کہ یہ سب میری عترت ہیں اور میری ہی طینت سے پیدا ہوئے ہیں انھیں مالک کی طرف سے علم و فہم عطا ہوا ہے اور ویل ہے میری امت کے ان افراد کے لئے جو ان کے فضل کا انکار کریں اور ان کے ساتھ میرے رشتہ قرابت کا خیال نہ رکھیں، اللہ ان لوگوں کو میری شفاعت نصیب نہ کرے ۔( حلیة الاولیاء
1
ص
86
، تاریخ دمشق حالات امام علی (ع)
2
ص
95
/
596
، فرائد السمطین
1
ص
53
/
18
، کنز العمال
12
ص
103
/
34198
، امالی طوسی (ر) ص
578
/
1195
، روایت ابی ذر ، مناقب ابن شہر آشوب
1
ص
292
، بصائر الدرجات ص
48
۔
52
روایت سعد بن طریف)۔
875
۔رسول
اکرم!
جسے یہ بات پسند ہے کہ انبیاء کی طرح زندہ رہے اور شہداء کی طرح مرجائے اور اس گلزار عدن میں قیام کرے جسے خدائے رحمان نے سجایا ہے تو اسے
چاہئے کہ علی (ع) اور ان کے دوستوں سے محبت کرے اور ان کے بعد ائمہ کی اقتدا کرے کہ یہ سب میری عترت ہیں اور میری ہی طینت سے پیدا ہوئے ہیں ۔( خدایا انھیں میرے علم و فہم سے بہرہ ور فرما۔
اور ویل ہے میری امت کے ان افراد کے لئے جو ان کی مخالفت کریں۔ خدا انھیں میری شفاعت نصیب نہ کرے ۔( کافی
1
ص
208
/
3
از سعد بن طریف)۔
876
۔ رسول اکرم میرے اہلبیت (ع) وہ ہیں جو حق و باطل میں امتیاز قائم کرتے ہیں اور یہی وہ ائمہ ہیں جن کی اقتداء کی جاتی ہے
۔ (
خصال
464
/
4
، احتجاج
1
ص
197
/
8
روایت خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین ، الیقین ص
341
، اثبات الہداة
1
ص
730
/
247
روایت ابی بن کعب
) ۔
877
۔ رسول اکرم ، سکون ، آرام ، رحمت ، نصرت، سہولت، سرمایہ ، رضا، مسرت ، نجات، کامیابی ، قرب الہی ، محبت خدا و رسول ان افراد کے لئے ہے جو علی (ع) سے محبت کریں اور ان کے بعد اوصیاء کی اقتدا کریں، (تفسیر عیاشی
1
ص
169
/
32
، المحاسن
1
ص
235
،
432
، روایت ابوکلدہ عن الباقر (ع))۔
878
۔ رسول اکرم ، خوشا بحال ان کا جو ہمارے قائم کو درک کرلیں اور ان کے قیام سے پہلے ہی ان کی اقتداء کرلیں، ان کے اور ان سے پہلے کے ائمہ ہدیٰ کے نقش قدم پر چلیں اور خدا کی بارگاہ میں ان کے دشمنوں سے برائت کریں، یہی افراد میں رفقا ہیں اور میری امت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محترم ہیں، کمال الدین ص
286
/
3
روایت سدیر عن الصادق (ع) الغیبتہ طوسی (ر) ص
456
/
466
روایت رفاعہ بن موسیٰ و معاویہ بن وہب عن الصادق (ع) ، الخرائج ص
1148
/
57
879
۔جابر بن عبداللہ
انصاری!
ایک دن رسول اکرم نے نماز صبح پڑھائی اور پھر ہماری طرف رخ کرکے یہ ارشاد فرمانا شروع کیا ، ایہا الناس اگر آفتاب غائب ہوجائے تو چاند سے وابستہ ہوجانا اور اگر وہ بھی غائب ہوجائے تو دونوں ستاروں سے وابستہ رہنا۔
جس کے بعد ہم نے ، ابوایوب انصاری اور انس نے عرض کی کہ حضور یہ آفتاب کون ہے ؟ فرمایا : میں
اس کے بعد حضور نے مثال بیان کرنا شروع کی کہ پروردگار نے ہمارے گھرانے کو خلق کرکے ستاروں کی مانند قرار دیدیا ہے کہ جب ایک ستارہ غائب ہوتاہے تو
دوسرا طالع ہوجاتاہے، میں آفتاب کے مانند ہوں لہذا جب میں نہ رہ جاؤں تو ماہتاب سے تمسک کرنا۔
ہم نے عرض کی کہ حضور یہ ماہتاب کون ہے ؟ فرمایا میرا بھائی ، وصی ، وزیر ، میرے قرض کا ادا کرنے والا، میری اولد کا باپ ، میرے اہل میں میرا جانشین علی (ع) بن ابی طالب (ع) !
ہم نے عرض کی کہ پھر یہ دوستارے کون ہیں ؟ فرمایا حسن (ع) و حسین (ع) اس کے بعد ذرا توقف کرکے فرمایا کہ اور فاطمہ (ع) بمنزلہ زہرہ ہے اور دیکھو میرے عترت و اہلبیت (ع) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن ان کے ساتھ ہے، یہ دونوں اس وقت تک جدا نہ ہوں گے جب تک حوض کوثر پر وارد نہ ہوجائیں ۔( امالی طوسی (ر)
516
/
1131
880
۔ امام رضا (ع
)!
جسے یہ بات پسند ہو کہ خدا کے جلوہ کو بے حجاب دیکھتے اور خدا بھی اس کی طرف بے حجاب نگاہ رحمت کرے اس چاہئے کہ آل محمد سے محبت کرے اور ان کے دشمنوں سے برات کرے ، ان میں کہ ائمہ کی اقتدا کرے کہ ایسے افراد کی طرف خدا روز قیامت براہ راست نگاہ رحمت کرے گا اور ایسے لوگ اس کے جلوہ کو بلا حجاب دیکھیں گے۔( محاسن
1
ص
133
/
165
روایت بکر بن صالح)۔