6۔ اکرام و احترام
” یہ نور خدا ان گھروں میں ہے جن کے احترام کا حکم دیا گیاہے اور ان میں صبح و شام ذکر خدا ہوتارہتاہے۔( نور۔آیت نمبر
36
)۔
881
۔انس بن مالک و
بریدہ!
رسول اکرم نے آیت مذکورہ کی تلاوت فرمائی تو ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ !یہ کونسے گھر ہیں ؟ فرمایا یہ انبیاء کے گھر ہیں تو ابوبکر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ حضور کیا یہ علی (ع) و فاطمہ (ع) کا گھر بھی انھیں میں شامل ہے؟ فرمایا بیشک ، ان گھروں میں سب سے افضل و برتر ہے۔( درمنثور
6
ص
203
نقل از ابن مردویہ ، شواہد التنزیل
1
ص
534
/
568
، مجمع البیان
7
ص
227
، العمدہ ص
291
/
478
)۔
882
۔رسول اکرم ۔ چار قسم کے افراد ہیں جن کی شفاعت میں روز قیامت کروں گا، میری ذریت کے احترام کرنے والے، ان کے ضروریات کوپورا کرنے والے، وقت ضرورت ان کے معاملات میں دوڑ دھوپ کرنے والے اور ان سے قلب و زبان سے محبت کرنے والے۔( کنز العمال
12
ص
100
/
34180
نقل از دیلمی ، امالی طوسی (ر) ص
366
/
779
، روایت علی بن علی بن
رزین برادر دعبل خزاعی عن الرضا (ع) ، عیون اخبار الرضا (ع)
1
ص
254
/
2
روایت دعبل
2
ص
25
/
4
روایت داؤد بن سلیمان و احمد بن عبداللہ الہروی، بشارة المصطفیٰ ص
36
، فرائد السمطین
2
ص
277
/
541
روایت احمد بن عامر الطائی )۔
883
۔ رسول اکرم ، ایہا النّ
اس!
میری زندگی میں اور میرے بعد میرے اہلبیت (ع) کا احترام کرنا، ان کی بزرگی اور فضیلت کا اقرار رکھنا، ( کتاب سلیم
2
ص
687
، احقاق الحق
5
ص
42
نقل از درر بحر المناقب روایت ابوذر و مقداد و سلمان عن علی (ع) )۔
884
۔ امام حسن (ع
)!
رسول اکرم نے انصار کے پاس ایک شخص کو بھیجکر سب کو طلب کیا اور جب آگئے تو فرمایا اے گروہ انصار ! کیا میں تمھیں ایسی شے کا پتہ بتاؤں جس سے متمسک رہو تو اس کے
بعد کبھی گمراہ نہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کی بیشک، فرمایا یہ علی (ع) ہیں، ان سے محبت کرو اور میری کرامت کی بناء پر ان کا احترام کرو کہ جبریل نے مجھے یہ حکم پہنچا یاہے کہ میں پروردگار کی طرف سے اس حقیقت کا اعلان کردوں ۔( المعجم الکبیر
3
ص
88
/
2749
، حلیة الاولیاء
1
ص
63
روایت ابن ابی لیلیٰ ، امالی طوسی (ر) ص
223
/
386
، بشارة المصطفیٰ ص
109
روایت سلمان فارسی )۔
885
۔ ابن عباس ۔ رسول اکرم منبر پر تشریف لے گئے اور لوگوں کے اجتماع میں خطبہ ارشاد فرمایا کہ ایہا الناس ، تم سب روز قیامت جمع کئے جاؤگے اور تم سے ثقلین کے بارے میں سوال کیا جائے گا لہذا اس کا خیال رکھنا کہ میرے بعد ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہو، دیکھو یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں جس نے ان کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے ان پر ظلم کیا اس نے مجھ پر ظلم کیا اور جس نے انھیں ذلیل کیا اس نے مجھے ذلیل کیا اور جس نے ان کی عزت کی اس نے میری عزت کی اور جس نے ان کا احترام کیااس نے میرا احترام کیا اور جس نے ان کی مدد کی اس نے میری مدد کی اور جس نے انھیں چھوڑ دیا اس نے مجھے چھوڑ دیا۔( امالی صدوق (ر)
62
/
11
، التحصین ص
599
، مشارق انوار الیقین ص
53
)۔
886
۔ رسول
اکرم!
روز قیامت خدا کی بارگاہ میں حاضر ہونے والی امتوں میں میری امت سے بہتر کوئی امت نہ ہوگی اور میرے اہلبیت (ع) سے بہتر کسی کے اہل بیت نہ ہوں گے لہذا حذار! ان کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا (جامع الاحادیث ص
261
روایت ابن عباس)۔
887
۔ رسول
اکرم!
پروردگار کی طرف سے تین محترم اشیاء ہیں ، جو ان کو محفوظ رکھے گا خدا اس کے امور دین و دنیا کی حفاظت کرے گا اور جو انھیں محفوظ نہ رکھے گا خدا اس کا تحفظ نہ کرے گا، حرمت اسلام ، میری حرمت اور میری عترت کی حرمت ۔( خصال ص
146
/
173
، روایت ابوسعید خدری روضة الواعظین ص
297
، المعجم الکبیر
3
ص
126
/
2881
، المعجم الاوسط
1
ص
72
/
203
، مقتل الحسین خوارزمی
2
ص
97
، احقاق الحق
9
ص
511
18
ص
442
۔
888
۔ امام باقر (ع
)!
رسول اکرم نے منی میں اصحاب کو جمع کرکے فرمایا، ایہا الناس میں تمھارے درمیان تمام محترم اشیاء کو چھوڑے جارہاہوں، کتاب خدا ، میری عترت اور کعبہ جو بیت الحرام ہے۔( بصائر الدرجات ص
413
/
3
روایت جابر ، مختصر بصائر الدرجات ص
90
روایت جابر بن یزید الجعفی)۔
889
۔ امام صادق (ع
)!
پروردگار کے لئے اس کے شہروں میں پانچ محترم اشیاء ہیں، حرمت رسول اکرم ، حرمت آل رسول اکرم ، حرمت کتاب خدا ، حرمت کعبہ اور حرمت مومن ۔( کافی
8
ص
107
/
82
روایت علی بن شجرہ)۔
890
۔ امام صادق (ع) پروردگار کے لئے تین حرمتیں بے مثل و بے نظیر ہیں ، کتاب خدا جو سراپا حکمت و نور ہے ، خانہ خدا جو قبلہ خاص و عام ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی طرف رخ کرنا قبول نہیں ہے اور عترت پیغمبر اسلام
(امالی
صدوق (ر) ص
339
/
13
، معانی الاخبار
117
/
1
روایت عبداللہ بن سنان ۔ خصال ص
146
/
174
روایت ابن
عباس) ۔