8۔ حسن سلوک
895
۔ رسول
اکرم!
جو ہمارے اہلبیت (ع) میں سے کسی کے ساتھ بھی کوئی اچھا برتاؤ کرے گا میں روز قیامت اس کا بدلہ ضرور دوں گا۔ (کافی
4
ص
60
/
8
) تہذیب
4
ص
110
/
312
روایت عیسیٰ بن عبداللہ عن الصادق (ع) ، الفقیہ
2
ص
65
/
1725
، ذخائر العقبئ ص
19
، ذخائر العقبئ ص
19
، کنز العمال
12
ص
95
/
34152
، الجامع الصغیر
2
ص
619
/
8821
از ابن عساکر)۔
896
۔ رسول
اکرم!
جو شخص بھی مجھ سے ارتباط چاہتاہے اور چاہتاہے کہ اس کا کوئی حق میرے ذمہ رہے اور میں روز قیامت اس کی شفاعت کرسکوں اس کا فرض ہے کہ میرے اہلبیت (ع) سے رابطہ رکھے اور انھیں خوش کرتارہے۔( امالی طوسی (ر) ص
424
/
947
، امالی صدوق (ر) ص
310
/
5
روایت ابان بن تغلب ، کشف الغمہ
2
ص
25
، روضة الواعظین ص
300
، ینابیع المودة
2
ص
379
/
75
، احقاق الحق
9
ص
424
/
31
۔
18
ص
475
/
52
)۔
897
۔ رسول
اکرم!
ائمہ اولاد علی (ع) کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو شخص بھی ان میں سے کسی ایک پر ظلم کرے گا وہ میرا ظالم ہوگا اور جو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا اس نے گویا میرے ساتھ بہترین سلوک کیا ۔( کمال الدین ص
413
/
13
روایت محمدبن الفضیل)۔
898
۔ امام صادق (ع
)!
اپنے اموال میں آل محمد کے ساتھ حسن سلوک کو نظر انداز مت کرو ، اگر غنی ہو تو بقدر دولت اور اگر فقیر ہو تو بامکان فقیری ، اس لئے کہ جو شخص
بھی یہ چاہتاہے کہ پروردگار اس کی اہم ترین حاجت کو پورا کردے اس کا فرض ہے کہ آل محمد اور ان کے شیعوں کے ساتھ بہترین برتاؤ کرے چاہے اسے خود اپنے مال کی کسی قدر ضرورت کیوں نہ ہو۔( بشارة المصطفیٰ ص
6
روایت عمران بن معقل)۔
899
۔ امام صادق (ع)! جو ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہ کرسکے اسے چاہئے کہ ہمارے نیک کردار دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے، پروردگار اسے ہمارے ساتھ سلوک کا ثواب عنایت فرما دے گا اور اسی طرح جو ہماری زیارت نہ کرسکے وہ ہمارے چاہنے والوں کی زیارت کرے ، پروردگار اسے ہماری زیارت کا
ثواب عنایت کردے گا ۔( ثواب الاعمال ص
124
/
1
روایت احمد بن محمد بن عیسیٰ ، الفقیہ
2
ص
73
/
1765
، کامل الزیارات ص
219
روایت عمرو بن عثمان عن الرضا (ع) )۔
900
۔ عمر بن
مریم!
میں نے امام صادق (ع) سے آیت ” الذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل “ کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا کہ یہ صلہٴ رحم کے بارے میں ہے اور اس کی آخری تاویل تمھارا برتاؤ ہمارے ساتھ ہے۔( تفسیر عیاشی
2
ص
208
/
30
)۔