read

9۔ صلوات

901
۔ ابوسعید
خدری!
ہم نے رسول اکرم سے گذارش کی کہ تسلیم تو معلوم ہے یہ صلوات کا طریقہ کیاہے؟ تو فرمایا کہ اس طرح کہو ” خدایا اپنے بندہ اور رسول محمد پر اس طرح رحمت نازل کرنا جس طرح آل ابراہیم پر نازل کی ہے اور انھیں اس طرح برکت دینا جس طرح ابراہیم (ع) کو دی ہے ۔( صحیح بخاری
4
ص
1802
/
4520
، صحیح مسلم
1
ص
305
/
405
، سنن دارمی
1
ص
330
/
1317
سنن ابی داؤد
1
ص
257
/
978
، سنن نسائی
3
ص
49
902
۔ عبدالرحمان بن ابی لیلی
ٰ!
مجھ سے کعب بن عجرہ نے ملاقات کے دوران بتایا کہ میں تمھیں ایک بہترین تحفہ دینا چاہتاہوں جو رسول اکرم نے ہمیں دیا ہے میں نے کہا وہ کیا ؟ تو انھوں نے کہا کہ ہم نے حضور سے سوال کیا کہ آپ اہلبیت (ع) پر صلوات کا طریقہ کیا ہے، سلام کرنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہے؟ فرمایا کہ اس طرح کہو” خدایا محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما جس طرح ابراہیم (ع) اور آل ابراہیم (ع) پر نازل کی ہے کہ تو قابل حمد بھی ہے اور بزرگ بھی ہے، اور محمد و آل محمد کو برکت عنایت فرما جس طرح کہ ابراہیم (ع) اور آل ابراہیم (ع) کو دی ہے کہ تو حمید بھی ہے اور مجید بھی
ہے۔( صحیح بخاری
3
ص
1233
/
3190
، صحیح مسلم
1
ص
305
/
406
، سنن ابی داؤد
1
ص
257
/
976
، سنن دارمی
1
ص
329
/
1316
، سنن نسائی
3
ص
45
903
۔امام صادق (ع
)!
میرے والد بزرگوار نے ایک شخص کو خانہ کعبہ سے لپٹ کر یہ کہتے ہوئے سنا کہ خدایا محمد پر رحمت نازل فرما … تو فرمایا کہ ناقص صلوات مت پڑھ اور ہم پر ظلم نہ کر، پڑھناہے تو اس طرح پڑھ ” خدایا محمد او ران کے اہلبیت (ع) پر رحمت نازل فرما ۔( کافی
2
ص
495
/
21
، عدة الداعی ص
149
روایت ابن اقداح)۔
904
۔ رسول
اکرم!
جو شخص بھی ایسی نماز پڑھے گا جس میں مجھ پر اور میرے اہلبیت (ع) پر صلوات نہ ہوگی تو اس کی نماز قابل قبول نہیں ہے۔(سنن دارقطنئ
1
ص
355
/
6
عوالی اللئالی
2
ص
40
/
101
، احقاق الحق
18
ص
310
، مستدرک الوسائل
5
ص
15
/
5256
روایت ابومسعود انصاری )۔
905
۔
شافعی!
اے اہلبیت (ع) رسول آپ کی محبت پروردگار کی طرف سے فرض ہے اور اس کا حکم قرآن میں نازل ہوا ہے۔
آپ کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ جو شخص بھی آپ پر صلوات نہ پڑھے اس کی نماز ، نماز نہیں ہے۔( الصواعق المحرقہ ص
148
، نور الابصار
127
واضح رہے کہ نور الابصار میں ” عظیم القدر“ کے بجائے ” عظیم الفخر “ نقل کیا گیاہے۔