read

1۔ علامت ولادتِ صحیح

943
۔رسول اکرم ۔
لوگو!
اپنی اولاد کا امتحان محبت علی (ع) کے ذریعہ لو کہ علی (ع) کسی گمراہی کی دعوت نہیں دے سکتے ہیں اور کسی ہدایت سے دور نہیں کرسکتے ہیں جو اولاد ان سے محبت کرے وہ تمھاری ہے ورنہ پھر تمھاری نہیں ہے۔( تاریخ دمشق حالات امام علی (ع)
2
ص
225
/
730
944
۔ امام علی (ع
)!
رسول اکرم نے ابوذر سے فرمایا کہ جو ہم اہلبیت (ع) سے محبت رکھتاہے اسے شکر خدا کرنا چاہیئے کہ اس نے پہلی ہی نعمت عنایت فرمادی ہے ابوذر نے عرض کی حضور یہ پہلی نعمت کیا ہے ؟فرمایا حلال زادہ ہونا کہ ہماری محبت حلال زادہ کے علاوہ کسی کے دل میں نہیں ہوسکتی ہے۔( امالی طوسی (ر) ص
455
/
1918
روایت حسین بن زید و عبداللہ بن ابراہیم الجعفری عن الصادق (ع))۔
945
۔ رسول
اکرم!
یا علی (ع) ! جو مجھ سے تم سے اورتمھاری اولاد کے ائمہ سے محبت کرے اسے حلال زادہ ہونے پر شکر خدا کرنا چاہیئے کہ ہمارا دوست صرف حلال زادہ ہی ہوسکتاہے اور ہمارا دشمن صرف حرام زادہ ہی ہوسکتاہے، ( امالی صدوق ص
384
/
14
، معانی الاخبار
161
/
3
، بشارہ المصطفیٰ ص
150
روایت زید بن علی (ع) )۔
946
۔ رسول
اکرم!
یا علی (ع) ! عرب میں تمھارا کوئی دشمن ناتحقیق کے علاوہ نہیں ہوسکتاہے ۔( مناقب خوارزمی
323
/
330
، روایت ابن عباس، فرائد السمطین
1
ص
135
/
97
، خصال
577
/
1
، علل الشرائع
143
/
7
، مناقب ابن شہر آشوب
2
ص
267
۔
947
۔ امام علی (ع)! کوئی کا فر یا حرامزادہ مجھ سے محبت نہیں کرسکتاہے۔( شرح نہج البلاغہ
4
ص
110
، روایت ابن مریم انصاری ،شرح الاخبار
1
ص
152
/
92
، مناقب ابن شہر آشوب
3
ص
208
۔
948
۔ امام باقر (ع)! جو شخص اپنے دل میں ہماری محبت کی خنکی کا احساس کرے اسے ابتدائی نعمت پر شکر خدا کرنا چاہیئے کسی نے سوال کیا کہ یہ ابتدائی نعمت کیا ہے؟ فرمایا حلال زادہ ہونا ۔( امالی صدوق (ر)
384
/
13
، علل الشرائع
141
/
2
، معانی الاخبار
161
/
2
روایت ابومحمد الانصاری)۔
949
۔ امام صادق (ع
)!
جو شخص اپنے دل میں ہماری محبت کی خنکی کا احساس کرے اسے اپنی ماں کو دعائیں دینا چاہئیں کہ اس نے باپ کے ساتھ خیانت نہیں کی ہے۔( معانی الاخبار
161
/
4
، بشارة المصطفیٰ ص
9
روایت مفضل بن عمر)۔
950
۔ ابن
بکیر!
امام صادق (ع) نے فرمایا کہ جو شخص ہم سے محبت کرے اور محل عیب میں نہ ہو اس پر اللہ خصوصیت کے ساتھ مہربان ہے میں نے عرض کی کہ محل عیب سے مراد کیا ہے؟ فرمایا ۔ حرام زادہ ہونا ۔( معانی الاخبار
166
/
1
951
۔ امام صادق (ع
)!
خدا کی قسم عرب و عجم میں ہم سے محبت کرنے والے وہی لوگ ہیں جو اہل شرف اور اصیل گھر والے ہیں اور ہم سے دشمنی کرنے والے وہی لوگ ہیں جن کے نسب میں نجاست، گندگی اور غلط نسبت پائی جاتی ہے۔( کافی
8
ص
316
/
497
952
۔عبادة بن
الصامت!
ہم اپنی اولاد کا امتحان محبت علی (ع) کے ذریعہ کیا کرتے تھے کہ جب کسی کو دیکھ لیتے تھے کہ وہ علی (ع) سے محبت نہیں کرتاہے تو سمجھ لیتے تھے کہ یہ ہمارا نہیں ہے اور صحیح نکاح کا نتیجہ نہیں ہے۔( تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) ص
224
/
727
، نہایة
1
ص
161
، لسان العرب
4
ص
87
)۔ تاج العروس
6
ص
118
، مجمع البیان
9
ص
160
، شرح الاخبار
1
ص
446
/
124
، رجال کشی
1
ص
241
، مناقب ابن شہر آشوب
3
ص
207
۔
953
۔ محبوب بن ابی
الزناد!
انصار کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کے حرامزادہ ہونے کو بغض علی (ع) کے ذریعہ پہچان لیا کرتے تھے۔
مولف ! عیسی بن ابی دلف کا بیان ہے کہ ان کا بھائی ولف جس کے نام سے ان کے والد کو ابودلف کہا جاتا تھا، حضرت علی (ع) اور ان کے شیعوں کی برابر برائی کیا کرتا تھا اور انھیں جاہل قرار دیا کرتا تھا، ایک دن اس نے اپنے والد کی بزم میں ان کی عدم موجودگی میں یہ کہنا شروع کردیا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ علی (ع) کی تنقیص کرنے والا حرامزادہ ہوتاہے حالانکہ تم لوگ جانتے ہو کہ
میرا باپ کس قدر غیرت دار ہے اور وہ گوارا نہیں کرسکتا کہ اس کی زوجہ کے بارے میں کوئی شخص زبان کھول سکے اور میں برابر علی (ع) سے عداوت کا اعلان کررہاہوں جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ بات بے بنیاد ہے۔
اتفاق امر کہ اچانک ابودلف گھر سے نکل آئے، لوگوں نے ان کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دلف کا بیان تو سن لیا، اب بتائیے کیا حدیث معروف غلط ہے جبکہ اس کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، تو ابودلف نے کہا کہ یہ ولد الزنا بھی ہے اور ولد الحیض بھی ہے اور اس کا واقعہ یہ ہے کہ میں بیمار تھا، میری بہن نے اپنی کنیز کو عیادت کے لیے بھیجا، مجھے وہ پسندتھی ، میں نے اپنے نفس کو بے قابو دیکھ کر اس سے تعلقات قائم کرلئے جبکہ وہ ایام حیض میں تھی اور اس طرح وہ حاملہ بھی ہوگئی اور بعد میں اس نے بچہ کو میرے حوالہ کردیا۔
جس کے بعد دلف اپنے باپ کا بھی دشمن ہوگیا کہ اس کا رجحان تشیع اور محبت علی (ع) کی طرف تھا اور باب کے مرنے کے بعد مسلسل اسے بُرا بھلا کہنے لگا۔( مروج الذہب
4
ص
62
، کشف الیقین
276
/
573