2۔ محبان اہلبیت (ع) سے محبت
988
۔ حنش بن
المعتمر!
میں امیر المومنین علی (ع) بن ابی طالب (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے سلام کرکے مزاج دریافت کیا تو فرمایا کہ میری شام اس عالم میں ہوئی ہے کہ میں اپنے دوستوں کا دوست اور دشمنوں کا دشمن ہوں اور ہمارا دوست اس رحمت خدا پر مطمئن ہے جس کا انتظار کررہا تھا اور ہمارا دشمن اپنی تعمیر جہنم کے کنارہ کررہاہے جس کا انجام جہنم میں گرجاناہے اور گویا کہ اہل رحمت کیلئے رحمت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور انھیں رحمت مبارک ہے اور اہل جہنم کیلئے جہنم کی ہلاکت حاضر ہے۔
حنش ! جو شخص یہ معلوم کرنا چاہتاہے کہ میرا دوست ہے یا دشمن ؟ اسے چاہئے کہ اپنے دل کا امتحان کرے، اگر ہمارے دوستوں کا دوست ہے تو ہمارا دشمن نہیں ہے اور ہمارے دوستوں کا دشمن ہے تو پھر ہمارا دوست نہیں ہے ، خدا نے ہمارے دوست کی دوستی کا عہد لیا ہے اور ہمارے دشمنوں کا نام کتاب
میں ثبت کردیاہے، ہم نجیب اور پاکیزہ افراد ہیں اور ہمارا گھرانہ انبیاء کا گھرانہ ہے۔( امالی طوسی (ر)
113
/
172
، امالی مفید (ع) ص
334
/
74
، بشارة المصطفیٰ ص
45
، کشف الغمہ
2
ص
8
، الغارات
2
ص
585
)۔
989
۔ امام علی (ع
)!
جس نے اللہ سے محبت کی اس نے نبی سے محبّت کی اور اس نے ہم سے محبت کی اور جس نے ہم سے محبّت کی وہ ہمارے شیعوں سے بہر حال محبّت کرے گا ۔( تفسیر فرات کوفی ص
128
/
146
روایت زید بن حمزہ بن محمد بن علی بن زیاد القصار)۔
990
۔ امام صادق (ع
)!
جس نے ہمارے دوست سے محبّت کی اس نے ہم سے محبتّ کی( بحار الانوار
100
/
124
/
34
روایت عبدالرحمان بن مسلم ( المزار الکبیر)۔