read

3۔ دشمنان اہلبیت (ع) سے دشمنی

991
۔ صالح بن میثم
التمار!
میں نے حضرت میثم کی کتاب میں دیکھا ہے کہ ہم لوگوں نے ایک شام امیر المومنین (ع) کی خدمت میں حاضری دی تو آپ نے فرمایا کہ جس مومن کے دل کا بھی خدا نے ایمان کے لئے امتحان لے لیا وہ ہماری مودت کو اپنے دل میں ضرور پائے گا اور جس پر خدا کی ناراضگی ثبت ہوگئی ہے وہ ہماری دشمنی ضرور رکھے گا ، ہم اس بات پر خوش ہیں کہ مومن ہم سے دوستی رکھتاہے اور دشمن کی دشمنی کو ہم پہچانتے ہیں۔
ہمارا دوست رحمت خدا کی بناپر خوشحال ہے اور ہر روز اس کا منتظر رہتاہے اور ہمارا دشمن اپنی تعمیر جہنم کے کنارے پر کررہاہے جس کا انجام ایک دن اس میں گر جاناہے، گویا اہل رحمت کے لئے رحمت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور وہ اس میں خوشحال ہے اور اہل جہنم کا انجام ہلاکت ہے۔
جس بندہ کے دل میں خدا نے خیر قرار دیدیاہے وہ ہماری محبت میں کوتاہی نہیں کرسکتاہے اور جو ہمارے دشمن سے محبت کرتاہے وہ ہمارا دوست نہیں ہوسکتاہے، دو طرح کی چیزیں ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتی ہیں اور ” خدا نے کسی سینہ میں دو دل نہیں قرار دیے ہیں۔ سورہ احزاب ایت
124
کہ ایک سے اس قوم سے محبت کرے اور دوسرے سے اس قوم سے ، جو ہمارا محب ہے وہ اتنا ہی خالص ہے جس قدر بغیر ملاوٹ والا سونا ہوتاہے۔
ہم نجیب و پاکیزہ افراد ہیں اور ہمارا گھرانہ انبیاء کا گھرانہ ہے، ہم اوصیاء کے وصی اور اللہ و رسول کے گروہ والے ہیں، ہمارا باغی گروہ حزب الشیطان ہے، جو ہماری محبت کا حال آزمانا چاہے وہ اپنے دل کا امتحان کرلے، اگر ہمارے دشمنوں کی محبت بھی پائی جاتی ہے تو اسے معلوم رہے کہ خدا، جبریل اور میکائیل سب اس کے دشمن ہیں اور خدا تمام کافروں کا دشمن ہے ( امالی طوسی (ر)
148
/
243
، بشارة المصطفیٰ ص
87
کشف الغمہ
2
/
11
، تاویل الآیات الظاہرة ص
439
روایت ابی الجارود و عن الصادق (ع)) ۔
992
۔ ابوالجارود نے امام باقر (ع) سے آیت شریفہ ’ ’ ما جعل اللہ لرجلٍ من قلبین فی جوفہ “ کے بارے میں امیر المومنین (ع) کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ہماری اور ہمارے دشمن کی محبت ایک سینہ میں جمع نہیں ہوسکتی ہیں کہ خدا نے کسی کے سینہ میں دو دل نہیں رکھے ہیں کہ ایک سے اس سے محبت کرے اور دوسرے سے اس سے دشمنی کرے، ہمارا محبت کرنے والا اتنا ہی مخلص ہوتاہے جیسے خالص سونا جس میں کسی طرح کی ملاوٹ نہ ہو، جو شخص ہماری محبت کا اندازہ کرنا چاہتاہے اسے چاہئے کہ اپنے دل کا امتحان کرلے، اگر ہماری محبت میں دشمن کو شریک پاتاہے تو نہ وہ ہم سے ہے اور نہ ہم اس سے ہیں اور اللہ بھی اس کا دشمن ہے اور جبریل و میکائیل بھی اور اللہ تمام کافروں کا دشمن ہے ۔( تفسیر قمی
2
ص
171
993
۔ امام صادق (ع) نے ایک شخص کے جواب میں فرمایا جس کا سوال یہ تھا کہ ایک شخص آپ کا دوست تو ہے لیکن آپ کے دشمن سے برائت میں کمزوری محسوس کرتاہے، اس کے بارے
میں کیا خیال ہے؟ … فرمایا، افسوس ، جو ہماری محبت کا دعویٰ کرے اور ہمارے دشمن سے برائت نہ کرے وہ جھوٹا ہے۔( مستطرفات السرائر
149
/
2