3۔ اطمینان قلب
1013
۔ امام علی (ع
)!
جب آیت کریمہ ” الا بذر اللہ تطمئن القلوب“ نازل ہوئی تو رسول اکرم نے فرمایا کہ یہ وہ شخص ہے جو خدا و رسول اور میرے اہلبیت (ع) سے سچی محبت
کرتاہے اور جھوٹ نہیں بولتاہے اور مومنین سے بھی حاضر و غائب ہر حال میں محبت کرتاہے کہ مومنین ذکر خدا ہی سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ۔( کنز العمال
2
ص
442
/
4448
، در منثور
2
ص
642
، جعفریات ص
224
)۔
1014
۔ امام صادق (ع
)!
آیت کریمہ کے نزول کے بعد رسول اکرم نے حضرت علی (ع) سے فرایا کہ تمھیں معلوم ہے کہ یہ کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟
عرض کی کہ خدا اور اس کا رسول بہتر جانتاہے ! فرمایا جو شخص میرے اقوال کی تصدیق کرے ، مجھ پر ایمان لے آئے اور تم سے اور تمھاری اولادسے محبت کرے اور سارے امور کو تم لوگوں کے حوالہ کردے۔( تفسیر فرات کوفی ص
207
/
374
روایت محمد بن القاسم بن عبید)۔
1015
۔ انس بن
مالک!
رسول اکرم نے مجھ سے آیتہ ” الا بذکر اللہ “ کے بارے میں دریافت کیا کہ فرزند ام سلیم تمھیں معلوم ہے کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں ؟
میں نے عرض کی حضور آپ فرمائیں ؟ فرمایا ہم اہلبیت (ع) اور ہمارے شیعہ۔( بحارا النوار
35
ص
405
/
29
/
23
ص
184
/
48
، تاویل الآیات الظاہرہ ص
239
، البرہان
2
ص
291
/
2
روایت ابن عباس )۔
نوٹ ! بظاہر ابن عباس کا نام سہواً درج ہوگیا ہے اس لئے کہ ابن عباس ام سلیم سے مراد انس بن مالک ہے جیسا کہ تہذیب الکمال
3
ص
353
/
568
میں واضح کیا گیاہے۔؟