12۔ اہلبیت (ع) کے ساتھ حشر و نشر
1036
۔ امام علی (ع)! رسول اکرم نے حسن (ع) و حسین (ع) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ جو مجھ سے ، ان دونوں سے اور ان کے والدین سے اور ان کے والدین سے محبت کرے گا وہ روز قیامت میرے ساتھ درجہ میں ہوگا۔( سنن ترمذی
5
ص
641
/
37733
، مسند احمد بن حنبل
1
ص
168
/
576
، فضائل الصحابہ ابن حنبل
2
ص
694
/
1185
، تاریخ بغداد
13
/
287
، مناقب خوارزمی ص
138
/
156
، تاریخ دمشق حالات امام حسن (ر) ص
52
/
95
،
96
، امالی صدوق (ر) ص
190
/
11
، بشارة المصطفیٰٰ ص
32
روایت علی بن جعفر عن الکاظم (ع) ، احقاق الحق
9
ص
174
)۔
1037
۔ امام علی (ع
)!
رسول اکرم نے فرمایا کہ ہم فاطمہ (ع) ، حسن (ع) ، حسین (ع) اور ہمارے دوست ایک مقام پر جمع ہوں گے اور کھانے پینے میں مصروف رہیں گے یہاں تک کہ تمام بندوں کا حساب ہوجائے ، ایک شخص نے یہ سنا تو کہنے لگا کہ پھر حساب و کتاب کا کیا ہوگا؟ تومیں نے کہا صاحب یاسین کے بارے میں کیا خیال ہے جو اسی ساعت داخل جنت کردیے گئے ۔( المعجم الکبیر
3
ص
41
/
2623
از عمر بن علی ، تہذیب تاریخ دمشق
4
ص
213
)۔
1038
۔ رسول اکرم میرے پاس حوض کوثر پر میرے اہلبیت (ع) اور ان کے چاہنے والے برابر سے وارد ہوں گے
۔ (مقاتل
الطالبیین ص
76
، شرح نہج البلاغہ معتزلی
16
ص
45
روایت سفیان، ذخائر العقبئص
18
، کتاب الغارات
2
ص
586
، مناقب امیر المومنین (ع) کوفی
2
ص
192
/
614
) ۔
1039
۔ رسول
اکرم!
جو مجھ سے اور میرے اہلبیت(ع) سے محبت کرے گا وہ میرے ساتھ دو برابر کی انگلیوں کی طرح رہے گا۔( کفایة الاثر ص
35
روایت ابوذر)۔
1040
۔ رسول
اکرم!
جو ہم اہلبیت (ع) سے محبت کرے گا وہ قیامت میں ہمارے ساتھ محشور ہوگا اور ہمارے ساتھ داخل جنّت ہوگا۔ (کفایة الاثر ص
296
از محمد بن ابی بکر از زید بن علی )۔
1041
۔ رسول
اکرم!
جوہم سے محبت کرے گا وہ قیامت میں ہمارے ساتھ ہوگا اور اگر کوئی انسان کسی پتھر سے بھی محبت کرے گا تو اسی کے ساتھ محشور ہوگا، (امالی صدوق (ر) ص
174
/
9
روایت نوف ، روضة الواعظین ص
457
، مشکٰوة الانوار ص
84
)۔
1042
۔
ابوذر!
میں نے عرض کی یا رسول اللہ میں ایسے افراد سے محبت کرتاہوں جن کے اعمال تک نہیں پہنچ سکتاہوں تو اب کیا کروں ؟ فرمایا ، ابوذر ! ہر انسان اپنے محبوب کے ساتھ محشور ہوگا اور اعمال کے مطابق جزا پائے گا۔
میں نے عرض کی کہ میں اللہ ، رسول اور اس کے اہلبیت (ع) سے محبت کرتاہوں ؟ فرمایا تمھارا انجام تمھارے محبوبوں کے ساتھ ہوگا ۔ (امالی طوسی (ر)
632
/
1303
، کشف الغمہ
2
ص
41
)۔
1043
۔ امام حسین (ع
)!
جو ہم سے دنیا کے لئے محبت کرے اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ دنیادار ہیں جن کے دوست نیک اور فاجر سب ہوتے ہیں اور جو ہم سے اللہ کے لئے محبت کرے اسے معلوم رہنا چاہیئے کہ قیامت کے دن ہمارے برابر میں ہوگا جس طرح کی ہاتھ کی دو انگلیاں۔( المعجم الکبیر
3
ص
135
/
2880
روایت بشر بن غالب)۔
1044
۔ امام حسین (ع
)!
جو ہم سے اللہ کے لئے محبت کرے گا وہ ہمارے ساتھ دو برابر کی انگلیوں کی طرح رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوگا اور جو ہم سے دنیا کیلئے محبت کرے گا تو دنیا نیک و بد سب کے لئے ہے۔( امالی طوسی
253
/
455
)۔ بشارة المصطفیٰ ص
123
روایت بشر بن غالب)۔
1045
۔ امام حسین (ع
)!
جو ہم سے محبت کرے اور صرف خدا کے لئے کرے وہ ہمارے ساتھ برابر سے روز قیامت محشور ہوگا اور جوہم سے صرف دنیا کے لئے محبت کرے گا اس کا حساب ایسے ہی ہوگا جیسے میزان عدالت میں ہر نیک و بد کا حساب ہوگا۔( محاسن
1
ص
134
/
168
)۔
1046
۔ امام زین العابدین (ع)! مختصر سی بات یہ ہے کہ جو ہم سے بغیر دنیاوی لالچ کے محبت کرے گا اور ہمارے دشمن سے بغیر ذاتی کدورت کے دشمنی رکھے گا وہ روز قیامت حضرت محمد ، حضرت ابراہیم (ع) اور حضرت علی (ع) کے ساتھ محشور ہوگا۔ ( محاسن
1
ص
267
/
517
روایت ابوخالد کابلی)۔
1047
۔ برید بن معاویہ
البجلی!
میں امام باقر (ع) کی خدمت میں حاضر تھا کہ اچانک ایک شخص خراسان سے پیدل چل کر وارد ہوا اس طرح اس کے دونوں پیر زخمی ہوچکے تھے، کہنے لگا کہ میں اس عالم میں صرف آپ اہلبیت (ع) کی محبت میں حاضر ہوا ہوں۔
فرمایا خدا کی قسم ہم سے کوئی پتھر بھی محبت کرے گا تو روز قیامت ہمارے ہی ساتھ محشور ہوگا کہ دین محبت کے علاوہ اور کیاہے۔ (تفسیر عیاشی
1
ص
167
/
27
)۔
1048
۔ امام صادق (ع)! جو ہم سے اس طرح محبت کرے کہ اس کی بنیاد نہ کوئی قرابتداری ہو اور نہ ہمارا کوئی احسان، صرف خدا و رسول کے لئے محبت کرے تو روز قیامت ہمارے ساتھ ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح محشور ہوگا۔ (اعلام الدین ص
260
روایت عبیدہ بن زرارہ)۔
1049
۔ یوسف بن ثابت بن ابی سعید ، امام صادق (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ جب لوگوں نے آپ کے پاس حاضر ہوکر عرض کی کہ ہم آپ سے قرابت رسول اور حکم خدا کی بناپر محبت کرتے ہیں اور ہمارا مقصد ہرگز کسی دنیا کا حصول نہیں ہے، صرف رضاء الہی اور آخرت مطلوب ہے اور ہم اپنے دین کی اصلاح چاہتے ہیں ۔
تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے یقیناً سچ کہا ہے، اب جو ہم سے محبت کرے گا وہ روز قیامت دو انگلیوں کی طرح ہمارے ساتھ ہوگا۔ (کافی
8
ص
106
/
80
، تفسیر عیاشی
2
ص
69
/
61
)۔
1050
۔ حکم بن عتیبہ، میں امام باقر (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو گھر حاضرین سے چھلک رہا تھا کہ ایک مرد بزرگ
عصا پر تکیہ کئے ہوئے حاضر ہوئے اور دروازہ پر کھڑے ہوکر آواز دی ، سلام ہو آپ پر اے فرزند رسول اور رحمت و برکات الہیہ آپ پر ، اس کے بعد خاموش ہوگئے تو امام نے فرمایا علیک السلام و رحمة اللہ و برکاتہ ، اس کے بعد مرد بزرگ نے تمام حاضرین کو سلام کیا اور چپ ہوگئے تو حاضرین نے جواب سلا م دیا۔
اس کے بعد امام کی طرف رخ کر کے عرض کی فرزند رسول ! میں آپ پر قربان ! مجھے قریب جگہ دیجیئے کہ میں آپ سے محبت کرتاہوں اور آپ کے دوستوں سے محبت کرتاہوں اور خدا گواہ ہے کہ اس میں کوئی طمع دنیا شامل نہیں ہے اور اسی طرح آپ کے دشمنوں سے اور آپ کے دوستوں کے دشمنوں سے نفرت کرتاہوں اور اس میں کوئی ذاتی عداوت شامل نہیں ہے ، میں آپ کے حلال و حرام کا پابند اور آپ کے حکم کا منتظر رہتاہوں کیا میرے لئے کوئی نیکی کی امید ہے۔
فرمایا ۔ میرے قریب آؤ، اور قریب آؤ، یہ کہہ کر اپنے پہلو میں جگہ دی اور فرمایا کہ ایسا ہی سوال میرے پدر بزرگوار سے ایک بزرگ نے کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ اگر تم اسی عالم میں دنیا سے چلے گئے تو رسول اکرم ، حضرت علی (ع) ، حضرت حسن (ع) و حسین (ع) اور علی بن الحسین (ع) کے پاس وارد ہوگے۔ تمھارا دل ٹھنڈا ہوگا، روح مطمئن ہوگی اور آنکھیں خنک ہوں گی ، تمھارا استقبال راحت و سکون کے ساتھ نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور اگر زندہ رہ گئے تو وہ کچھ دیکھوگے جس میں خنکی چشم ہو اور ہمارے ساتھ بلندترین منزل پر ہوگے۔
اس بزرگ نے کہا حضور دوبارہ فرمائیں … آپ نے تکرار فرمائی … اس نے کہا اللہ اکبر ، اے ابوجعفر ، میں مرکز رسول اکرم حضرت علی (ع) امام حسن (ع) و حسین (ع) اور علی بن الحسین (ع) کی خدمت میں وارد ہوں گا اور خنکی چشم ، راحت روح کے ساتھ حاضر ہوں گا اور اس سارے اجر کا حقدار ہوں گا جو آپ نے بیان فرمایاہے اور یہ کہہ کر رونا شروع کیا یہاں تک کہ بیہوش ہوکر گر پڑ ا اور تمام گھر والوں نے رونا شروع کردیا اور سب کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔
حضرت (ع) نے اپنے دست مبارک سے آنکھوں کو پوچھنا شروع کیا تو مرد بزرگ نے سر اٹھاکر امام (ع) سے عرض کیا ، فرزند رسول ، ذرا اپنا دست مبارک بڑھائیے، آپ نے ہاتھ بڑھائے، اس نے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور اپنے رخسار اور اپنی آنکھوں سے لگایا اور پھر اپنے شکم و سینہ پر رکھا اور سلام کرکے رخصت ہوگیا۔
امام علیہ السلام اس کو تا دیر دیکھتے رہے، اس کے بعد لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص کسی جنتی شخص کو دیکھنا چاہے، اسے اس شخص کو دیکھنا چاہیئے“۔
حکم بن عتیبہ کا بیان ہے کہ میں نے اس اجتماع جیسا کوئی ماتم نہیں دیکھاہے۔( کافی
8
/
76
/
30
)۔