read

13۔ جنّت

1051
۔
حذیفہ!
میں نے رسول اکرم کودیکھا کہ امام حسین (ع) کا ہاتھ پکڑ کر فرمارہے ہیں کہ ایھا الناس۔ اس کا جد یوسف بن یعقوب کے جد سے افضل ہے اور یاد رکھو کہ حسین (ع) کی منزل جنّت ہے، اس کے باپ کی منزل جنّت ہے، اس کی ماں کی جگہ جنّت ہے۔اس کا بھائی جنتی ہے اور اس کے تمام دوست اور ان کے چاہنے والے سب جنتی ہیں۔( مقتل الحسین خوارزمی
1
ص
67
1052
۔ امام صادق (ع) رسول اکرم ایک سفر میں جارہے تھے، ایک مقام پر رک کر آپ نے پانچ سجدے کئے اور روانہ ہوگئے تو بعض اصحاب نے عرض کی کہ
حضور!
آج تو بالکل نئی بات دیکھی ہے؟
فرمایا کہ جبریل امین نے آکر یہ بشارت دی ہے کہ علی (ع) جنتی ہیں تو میں نے سجدہ شکر کیا، پھر کہا کہ فاطمہ (ع) جنتی ہیں تو میں نے پھر سجدہ ٴ شکر کیا تو کہا کہ حسن و (ع) و حسین (ع) بھی جنتی ہیں تو میں نے سجدہٴ شکر کیا ، پھر کہا کہ ان سب کا دوست بھی جنتی ہے تو میں نے پھر سجدہٴ شکر کیا تو کہا کہ ان کے دوستوں کا دوست بھی جنتی ہے تو میں نے پھر سجدہٴ شکر کیا۔( امالی مفید (ر)
21
/
2
روایت ابوعبدالرحمٰن)۔
1053
۔ جابر بن عبداللہ
انصاری!
ہم مدینہ میں مسجد رسول میں حضور کی خدمت حاضر تھے کہ بعض اصحاب نے جنت کا ذکر شروع کردیا، آپ نے فرمایا کہ خدا کے یہاں نور کا ایک پرچم اور زمرد کا ایک ستون ہے جسے خلقت آسمان سے دو ہزار سال قبل خلق کیا ہے اور اس پر لکھا ہوا ہے’ ’ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، ال محمد خیر البریة ، اور یا علی (ع) تم اس قوم کے بزرگ ہو ۔
یہ سن کر حضرت علی (ع) نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس مرتبہ کی ہدایت دی اور آپ کے ذریعہ شرافت و کرامت عنایت فرمائی ، آپ نے فرمایا یا علی (ع) ! کیا تمھیں نہیں معلوم ہے کہ جو ہم سے محبت کرے اور ہماری
محبت کو اختیار کرے پروردگار اسے ہمارے ساتھ جنت میں ساکن کرے گا جیسا کہ کہ سورہٴ قمر کی آیت نمبر
55
میں بیان کیا گیا ہے۔( فضائل ابن شاذان ص
104
، احقاق الحق
4
ص
284
1054
۔ رسول
اکرم!
یا علی (ع)! جس نے تمھاری اولاد سے محبت کی اس نے تم سے محبت کی اور جس نے تم سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے خدا سے محبت کی وہ داخل جنت ہوگیا اور جس نے تمھاری اولاد سے دشمنی کی اس نے تم سے دشمنی کی اور جس نے تم سے دشمنی کی اس سے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے خدا سے دشمنی کی اور جس نے خدا سے دشمنی کی وہ اس بات کا سزاوار ہے کہ خدا اسے داخل جہنم کردے۔( درر الاحادیث ص
51
1055
۔رسول
اکرم!
جس نے دل سے ہم سے محبت کی اور ہاتھ اور زبان سے ہماری امداد کی وہ ہمارے ساتھ جنت کی بلندترین منزل میں ہوگا اور جو ہم سے محبّت کرکے زبان سے ہماری امداد کرے گا اور ہاتھ روک لے گا وہ اس سے کمتر درجہ میں ہوگا اور جو صرف دل سے محبت کرے گا وہ اس سے کمتر درجہ میں ہوگا ۔( احقاق الحق
9
ص
484
عن الامام علی (ع) )۔
1050
۔ رسول
اکرم!
جنت میں تین درجہ ہیں اور جہنم میں تین طبقے ہیں، جنّت کا اعلیٰ درجہ ہمارے اس دوست کے لئے ہے جو زبان اور ہاتھ سے ہماری امداد بھی کرے اور اس کے بعد کا درجہ اس کے لئے ہے جو صرف زبان ، سے قدر کرے اور اس کے بعد کا درجہ اس کے لئے ہے جو صرف دل سے محبت کرے۔( محاسن
1
ص
251
/
472
روایت ابوحمزہ ثمالی )۔
1057
۔ امام علی (ع
)!
جو ہم سے دل سے محبت کرے اور زبان سے ہماری مدد کرے اور ہاتھ سے ہمارے دشمنوں سے جہاد کرے وہ جنّت میں ہمارے درجہ میں ہوگا اورجو صرف دل اور زبان سے محبّت کرے اور جہاد نہ کرے وہ اس سے کمتر درجہ میں ہوگا اور جو صرف دل سے محبت کرے اور ہاتھ اور زبان سے ہماری امداد نہ کرے وہ بھی جنت ہی میں رہے گا ۔( خصال ص
629
/
10
روایت ابوبصیر و محمد بن مسلم ، جامع الاخبار ص
496
/
1377
، امالی مفید
33
/
8
روایت عمر بن ابی المقدام، غرر الحکم
8146
،
8147
،
8173
، تحف العقول ص
118
1058
۔ اما م زین العابدین (ع) بیمار تھے، ایک قوم عیادت کے لئے حاضر ہوئی ، عرض کیا فرزند رسول صبح کیسی ہوئی ؟ فرمایا عافیت کے عالم میں اور اس پر خدا کا شکر
ہے، تم لوگوں کا کیا عالم ہے ، عرض کی کہ حضور آپ حضرات کی محبت و مودت میں صبح کی ہے۔
فرمایا جو ہم سے اللہ کے لئے محبت کرے گا اللہ اس کو اپنے سایہ رحمت میں رکھے گا جس دن اس کی رحمت کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، اور جو ہم سے محبت میں منتظر جزا رہے گا خدا اسے جنت میں ہماری طرف سے جزا دے گا اور جو دنیا کے لئے ہم سے محبت کرے گا خدااسے بھی بے وہم و گمان روزی عطا کردے گا۔( نور الابصار ص
154
، الفصول المہمہ ص
203
1059
۔
یونس!
میں نے امام صادق (ع) سے عرض کیا کہ آپ حضرات کی محبت اور آپ کے حق کی معرفت میری نگاہ میں تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے، تو میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرہ پر غضب کے آثار نمودار ہوگئے۔
فرمایایونس ! تم نے بڑا غلط حساب کیا ہے ۔ کہاں دنیا اور کہاں ہم ، اس دنیا کی حقیقت ایک غذا اور ایک لباس کے علاوہ کیاہے جبکہ ہماری محبت کا اثر حیات دائمی ہے ۔( تحف العقول ص
379