read

فصل اول: بغض اہلبیت (ع) پر تنبیہ

1065
۔ رسول
اکرم!
میرے بعد ائمہ بارہ ہوں گے جن میں سے نوصلب حسین (ع) سے ہوں گے اور ان کا نواں قائم ہوگا، خوشا بحال ان کے دوستوں کے لئے اور ویل ان کے دشمنوں کے لئے۔( کفایة الاثر ص
30
روایت ابوسعید خدری)۔
1066
۔ رسول
اکرم!
میرے بارہ ائمہ مثل نقباء بنئ اسرائیل کے بارہ ہوں گے، اس کے بعد حسین (ع) کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہنو اس کے صلب سے ہوں گے جن کانواں مہدی ہوگا جو زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح ظلم و جور سے بھری ہوگی ، ویل ہے ان سب کے دشمنوں کے لئے۔ ( مناقب ابن شہر آشوب
1
ص
195
1067
۔ رسول
اکرم!
اگر کوئی بندہ صفاء و مروہ کے درمیان ہزا ر سال عبادت الہی کرے پھر ہزار سال دوبارہ اور ہزار سال تیسری مرتبہ اور ہم اہلبیت (ع) کی محبت حاصل نہ کرسکے تو پروردگار اسے منہ کے بھل جہنم میں ڈال دے گا جیسا کہ ارشاد ہوتاہے ” میں تم سے محبّتِ اقربا کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کرتاہوں“ ( تاریخ دمشق حالات امام علی (ع)
1
ص
132
/
182
روایت ابوامامہ باہلی ، مناقب ابن شہر آشوب
3
ص
198
1068
۔ رسول
اکرم!
اگر کوئی شخص ہزار سال عبادت الہی کرے اور پھر ذبح کردیا جائے اور ہم اہلبیت (ع) سے دشمنی لے کر خدا کی بارگاہ میں پہنچ جائے تو پروردگار اس کے سارے اعمال کوو اپس کردے گا۔ ( محاسن
1
ص
271
/
527
روایت جابر عن الباقر (ع) )۔
1069
۔ رسول
اکرم!
پروردگار اشتہاء سے زیادہ کھانے والے ، اطاعت خدا سے غفلت برتنے والے، سنت رسول کو ترک کرنے والے عہد کو توڑ دینے والے، عترت پیغمبر سے نفرت کرنے والے اور ہمسایہ کو اذیت دینے والے سے سخت نفرت کرتاہے۔( کنز العمال
16
/
44029
، احقاق الحق
9
ص
521
1070
۔ رسول اکرم ، ہم سے عداوت وہی کرے گا جس کی ولادت خبیث ہوگی
۔ (امالی
صدوق (ر) ص
384
/
14
، علل الشرائع ص
141
/
3
روایت زید بن علی ، الفقیہ
1
ص
96
/
203
۔
1071
۔ امام علی (ع
)!
بدترین اندھا وہ ہے جو ہم اہلبیت (ع) کے فضائل سے آنکھیں بند کرلے اورہم سے بلا سبب دشمنی کا اظہار کرے کہ ہماری کوئی خطا اس کے علاوہ نہیں ہے کہ ہم نے حق کی دعوت دی ہے اور ہمارے غیر نے فتنہ اور دنیا کی دعوت دی ہے اور جب دونوں باتیں اس کے سامنے آئیں تو ہم سے نفرت اور عداوت کرنے لگا۔( خصال ص
633
/
10
روایت ابوبصیر و محمد بن مسلم، غرر الحکم
3296
1072
۔ امام علی (ع)! ہر بندہ کے لئے خدا کی طرف سے چالیس پردہ داری کے انتظامات ہیں یہاں تک کہ چالیس گناہ کبیرہ کرلے تو سارے پردہ اٹھ جاتے ہیں اور پروردگار ملائکہ کو حکم دیتاہے کہ اپنے پروں کے ذریعہ میرے بندہ کی پردہ پوشی کرو اور بندہ اس کے بعد بھی ہر طرح کا گناہ کرتاہے اور اسی کو قابل تعریف قرار دیتاہے تو ملائکہ عرض کرتے ہیں کہ خدایا یہ تیرا بندہ ہر طرح کا گناہ کررہاہے اور ہمیں اس سے اعمال کے حیا آرہی ہے۔
ارشاد ہوتاہے کہ اچھا اپنے پروں کو اٹھالو ، اس کے بعد وہ ہم اہلبیت (ع) کی عداوت میں پکڑا جاتاہے اور زمین و آسمان کے سارے پردے چاک ہوجاتے ہیں اور ملائکہ عرض کرتے ہیں کہ خدایا اس بندہ کا اب کوئی پردہ نہیں رہ گیاہے۔ ارشاد ہوتاہے کہ اللہ کو اس دشمن اہلبیت (ع) کی کوئی بھی پرواہ ہوتی تو تم سے پروں کو ہٹانے کے بارے میں نہ کہتا۔( کافی
2
ص
279
/
9
، علل اشرائع ص
532
/
1
روایت عبداللہ بن مسکان عن الصادق (ع) ) ۔
1073
۔ جمیل بن میسر نے اپنے والد نخعی سے روایت کی ہے کہ مجھ سے امام صادق (ع) نے فرمایا،
میسر!
سب سے زیادہ محترم کونسا شہر ہے؟
ہم میں سے کوئی جواب نہ دے سکا تو فرمایا ، مکہ اس کے بعد فرمایا اور مکہ میں سب سے محترم جگہ؟
اور پھر خود ہی فرمایا رکن سے لے کر حجر اسود کے درمیان ، اور دیکھو اگر کوئی شخص اس مقام پر ہزار سال عبادت کرے اور پھر خدا کی بارگاہ میں ہم اہلبیت(ع) کی عداوت لے کر پہنچ جائے تو خدا اس کے جملہ اعمال کو رد کردے گا۔( محاسن
1
ص
27
/
28
،)۔