read

2۔ منافقین سے ملحق ہوجانا

1079
۔ رسول
اکرم!
جو ہم اہلبیت (ع) سے نفرت کرے گا وہ منافق ہوگا ۔(فضائل الصحابہ ابن حنبل
2
ص
661
،
1166
، درمنثور
7
ص
349
نقل از ابن عدی ،مناقب ابن شہر آشوب
3
ص
205
، کشف الغمہ
1
ص
47
روایت ابوسعید)۔
1080
۔ رسول
اکرم!
ہم اہلبیت (ع) کا دوست مومن متقی ہوگا اور ہمارا دشمن منافق شقی ہوگا۔( ذخائر العقبئص
18
روایت جابر بن عبداللہ ، کفایة الاثر ص
110
واثلہ بن الاسقع)۔
1081
۔ رسول
اکرم!
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ انسان کی روح اس وقت تک جسم سے جدا نہیں ہوتی ہے جب تک جنّت کے درخت یا جہنم کے زقوم کا مزہ نہ چکھ لے
اور ملک الموت کے ساتھ مجھے علی (ع) ، فاطمہ ، حسن (ع) اور حسین (ع) کو نہ دیکھ لے ، اس کے بعد اگر ہمارا محب ہے تو ہم ملک الموت سے کہتے ہیں ذرا نرمی سے کام لو کہ یہ مجھ سے اور ہمارے اہلبیت (ع) سے محبت کرتا تھا اور اگر ہمارا اور ہمارے اہلبیت (ع) کا دشمن ہے تو ہم کہتے ہیں ملک الموت ذرا سختی کرو کہ یہ ہمارا اور ہمارے اہلبیت (ع) کا دشمن تھا اور یاد رکھو ہمارا دوست مومن کے علاوہ اور ہمارا دشمن منافق بدبخت کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتاہے۔ (مقتل الحسین (ع) خوارزمی
1
ص
109
روایت زید بن علی(ع))۔
1082
۔ رسول
اکرم!
میرے بعد بارہ امام ہوں گے جن میں سے نوحسین (ع) کے صلب سے ہوں گے اور نواں ان کا قائم ہوگا، اور ہمارا دشمن منافق کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتاہے۔(کفایة الاثر ص
31
روایت ابوسعید خدری)۔
1083
۔ رسول
اکرم!
جو ہماری عترت سے بغض رکھے وہ ملعون، منافق اور خسارہ والا ہے۔( جامع الاخبار ص
214
/
527
1084
۔ رسول
اکرم!
ہوشیار رہو کہ اگر میری امت کا کوئی شخص تمام عمر دنیا تک عبادت کرتارہے اور پھر میرے اہلبیت (ع) اور میرے شیعوں کی عداوت لے کر خدا کے سامنے جائے تو پروردگار اس کے سینے کے نفاق کو بالکل کھول دے گا ۔( کافی
2
ص
46
/
3
، بشارة المصطفیٰ ص
157
روایت عبدالعظیم الحسنئ)۔
1085
۔ابوسعید
خدری!
ہم گروہ انصار منافقین کو صرف علی (ع) بن ابی طالب کی عداوت سے پہچانا کرتے تھے۔( سنن ترمذی
5
ص
635
/
3717
، تاریخ دمشق حالات امام علی (ع)
2
ص
220
/
718
، تاریخ الخلفاء ص
202
، المعجم الاوسط
4
ص
264
/
4151
، مناقب خوارزمی
1
ص
332
/
313
عن الباقر (ع) ، فضائل الصحابہ ابن حنبل
2
ص
239
/
1086
، مناقب امیر المومنین (ع) کوفی
2
ص
470
/
965
روایت جابر ابن عبداللہ تذکرة الخواص ص
28
از ابودرداء ، عیون اخبار الرضا (ع)
2
ص
67
/
305
روایت امام حسین (ع) ، کفایة الاثر ص
102
روایت زید بن ارقم ، العمدہ ص
216
/
334
روایت جابر بن عبداللہ مناقب ابن شہر آشوب
3
ص
207
، مجمع البیان
9
ص
160
روایت ابوسعید خدری ، قرب الاسناد
26
/
86
روایت عبداللہ بن عمر)۔