read

فصل اوّل: مظالم پر تنبیہ

1102
۔ رسول
اکرم!
ویل ہے میرے اہلبیت(ع) کے دشمنوں کے لئے جو ان پر اپنے کو مقدم رکھتے ہیں ، انھیں نہ میری شفاعت حاصل ہوگی اور نہ میرے پروردگار کی جنت کو دیکھ سکیں گے۔( امالی شجری
1
ص
154
1103
۔ رسول اکرم (ع)! اس پر اللہ کا شدید غضب ہوگا جو میری عترت کے بارے میں مجھے ستائے گا ۔( کنز العمال
12
ص
93
/
34143
، الجامع الصغیر
1
ص
158
/
1045
1104
۔ رسول
اکرم!
اس پر میرا اور اللہ کا غضب شدید ہوگا جو میرا خون بہائے گا اور مجھے میری عترت کے بارے میں ستائے گا ۔( امالی صدوق (ر) ص
377
/
7
، الجعفریات ص
183
روایت اسماعیل بن موسیٰ ، عیون اخبار الرضا (ع)
2
ص
27
/
11
، مقتل الحسین خوارزمی
2
ص
84
، صحیفة الرضا (ع) ص
155
/
99
، روایت احمد بن عامر الطای ، مسند زید ص
465
، ذخائر العقبئ ص
39
1105
۔ رسول اکرم ۔ ایہا
الناس!
کل میرے پاس اس انداز سے نہ آنا کہ تم دنیا کو سمیٹے ہوئے ہو اور میرے اہلبیت(ع) پریشان حال ، مظلوم ، مقہور ہوں اور ان کا خون بہہ رہا ہو۔( خصائص الائمہ ص
74
1106
۔ رسول
اکرم!
جس نے میرے اہلبیت (ع) کو برا بھلا کہا میں اس سے بری اور بیزار ہوں ۔( ینابیع المودہ
2
ص
378
/
74
1107
۔ رسول
اکرم!
جس نے مجھے میرے اہل کے بارے میں اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی ہے۔( کنز العمال
12
ص
103
/
34197
از ابونعیم)۔
1108
۔ رسول
اکرم!
چھ افراد ہیں جن پر میری بھی لعنت ہے اور خدا کی بھی لعنت ہے اور ہر نبی کی لعنت ہے، کتاب خدا میں زیادتی کرنے والا ، قضا و قدر کا انکار کرنے والا، لوگوں پر زبردستی حاکم بن کر صاحب عزت کو ذلیل اور ذلیلوں کو صاحب عزّت بنانے والا، میری سنت کو ترک کردینے والا، میری عترت کے بارے میں حرام خدا کو حلال بنالینے والا اور حرم خدا کی بے حرمتی کرنے والا ۔( مستدرک حاکم
2
ص
572
/
3940
روایت عبیداللہ بن عبدالرحمان بن عبداللہ بن موہب ، المعجم الکبیر
3
ص
126
/
2883
، المعجم الاوسط
2
ص
186
/
1667
، روایت عائشہ، شرح الاخبار
1
ص
494
/
878
روایت سفیان ثوری، خصال صدوق (ر)
338
/
41
روایت عبداللہ بن میمون)۔
1109
۔ رسول
اکرم!
پانچ افراد ہیں جن پر میری بھی لعنت ہے اور ہر نبی کی لعنت ہے، کتاب خدا میں زیادتی کرنے والا، میری سنت کا ترک کرنے والا ، قضائے الہی کا انکار کرنے والا میری عترت کی حرمت کو ضائع کرنے والا، مال غنیمت پر قبضہ کرکے اسے حلال کرلینے والا ۔( کافی
2
ص
293
/
14
روایت میسّر)۔
1110
۔ زید بن علی (ع
)!
اپنے والد بزرگوار کی زبانی نقل کرتے ہیں کہ امام حسین (ع) نے مسجد میں روز جمعہ عمر بن الخطاب کو منبر پر دیکھا تو فرمایا کہ میرے باپ کے منبر پر سے اترآ۔ تو عمر رونے لگے اور کہا فرزند سچ کہتے ہو، یہ تمھارے باپ کا منبر ہے، میرے باپ کا نہیں ہے۔
حضرت علی (ع) نے واقعہ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ میں نے نہیں سکھایاہے! عمر نے کہا یہ سچ ہے، ابوالحسن ! میں آپ کو الزام نہیں دے رہاہوں، یہ کہہ کر منبر سے اتر آئے اور آپ کو منبر پر لے جاکر پہلو میں بٹھایا اور خطبہ شروع کیا اور کہا ! ایہا الناس ! میں نے تمھارے پیغمبر کو یہ کہتے سناہے کہ
مجھے میری عترت و ذریت کے ذیل میں محفوظ رکھو، جو ان کے ذیل میں مجھے محفوظ رکھے گا خدا اس کی حفاظت کرے گا اور جو ان کے بارے میں مجھے اذیت دے گا اس پر خدا کی لعنت، خدا کی لعنت، خدا کی لعنت۔( امالی طوسی (ر) ص
703
/
1504
1111
۔ رسول
اکرم!
پروردگار کا غضب یہودیوں پر شدید ہوا کہ عزیز کو اس کا بیٹا بنادیا اور نصاریٰ پہ شدید ہوا کہ مسیح کو بیٹا بنادیا اور اس پر بھی شدید ہوگا جو میرا خون بہائے گا اور مجھے میری عترت کے بارے میں ستائے گا ۔( کنز العمال
1
ص
267
/
1343
روایت ابوسعید خدری)۔
1112
۔ ابوسعید
خدری!
جب جنگ احد میں رسول اکرم کا چہرہ زخمی ہوگیا اور دندان مبارک ٹوٹ گئے تو آپ نے ہاتھ اٹھاکر فرمایا خدا کا غضب یہودیوں پر شدید ہوا جب عزیز کو اس کا بیٹا بنادیا اور عیسائیوں پر شدید ہوا جب مسیح کو اس کا بیٹا بنادیا اور اب اس پر شدید ہوگا جس نے میرا خون بہایا اور مجھے میری عترت کے بارے میں اذیت دی ۔( امالی طوسی (ر)
142
/
231
، تفسیر عیاشی
2
ص
86
/
43
، بشارة المصطفیٰ ص
280
روایت فضل بن عمرو، کنز العمال
10
ص
435
/
30050
نقل از ابن النجار)۔