read

فصل دوم: اہلبیت (ع) پر ظلم کرنے والوں پر جنّت حرام ہے

1113
۔ رسول
اکرم!
پروردگار نے جنت کو حرام قرار دیدیاہے اس پر جو میرے اہلبیت (ع) پر ظلم کرے۔ ان سے جنگ کرے ، ان پر حملہ کرے یا انھیں گالیاں دے۔ (ذخائر العقبئص
20
، ینابیع ا لمودہ
2
ص
119
/
344
1114
۔ رسول
اکرم!
میرے اہلبیت (ع) پر ظلم کرنے والوں اور میری عترت کے بارے میں مجھے اذیت دینے والوں پر جنت حرام ہے۔( تفسیر قرطبی
16
ص
22
، کشاف
3
ص
402
، سعد السعود ص
141
، کشف الغمہ
1
ص
106
، لباب الانساب
1
ص
215
، العمدة ص
53
، فرائد السمطین
2
ص
278
/
542
۔
واضح رہے کہ کشف الغمہ نے عترتی کے بجائے عشیرتی نقل کیا ہے جو غالباً اشتباہ ہے۔
1115
۔ رسول اکرم ، جنت حرام کردی گئی ہے اس پر جو میرے اہلبیت (ع) پر ظلم کرے، ان سے جنگ کرے، ان کے خلاف کسی کی مدد کرے اور انھیں برا بھلا کہے ” ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصّہ نہیں ہے اور نہ خدا ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف رخ کرے گا اور نہ انھیں پاکیزہ قرار دے گا اور ان کیلئے دردناک عذاب ہوگا، آل عمران آیت
77
( عیون اخبار الرضا (ع)
2
ص
34
/
65
امالی طوسی
164
/
272
، تاویل الآیات الظاہرہ ص
120
۔
1116
۔ امام علی (ع
)!
خدا کی قسم میں اپنے انھیں کوتاہ ہاتھوں سے تمام اپنے دشمنوں کو حوض کوثر سے ہنکاؤں گا اور تمام دوستوں کو سیراب کروں گا ۔( بشارة المصطفیٰ ص
95
روایت ابوالاسود الدئلی ، کشف الغمہ
2
/
15
1117
۔ امام علی (ع
)!
میں رسول اکرم کے ہمراہ حوض کوثر پر ہوں گا اور میری عترت میرے ہمراہ ہوں گی اور ہم سب اپنے دشمنوں کو ہنکائیں گے اور اپنے دوستوں کو سیراب کریں گے اور جو شخص ایک گھونٹ پی لے گا وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا۔( غرر الحکم ص
3763
، تفسیر فرات کوفی
367
/
499
1118
۔ انس بن
مالک!
میں رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا جب سورہٴ کوثر نازل ہوچکا تھا اور میں نے دریافت کیا حضور یہ کوثر کیا ہے؟ فرمایا جنت میں ایک نہر ہے جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے، کوئی اس سے پینے والا پیاسا نہ ہوگا اور کوئی اس سے منہ دھونے والا غبار آلود نہ ہوگا لیکن
وہ شخص سیراب نہیں ہوسکتا جس نے میرے عہد کو توڑ دیا ہے اور میرے اہلبیت (ع) کو قتل کیاہے۔( المعجم الکبیر
3
ص
126
/
2882
1119
۔ علی بن ابی طلحہ غلام
بنئامیہ!
معاویہ بن ابی سفیان نے حج کیا اور اس کے ساتھ معاویہ بن خدیج بھی تھا جو سب سے زیادہ علی (ع) کو گالیاں دیا کرتا تھا مدینہ میں مسجد پیغمبر کے پاس سے گذرا تو حسن (ع) چند افراد کے ساتھ بیٹھے تھے، لوگوں نے کہا کہ یہ معاویہ بن خدیج ہے جو حضرت علی (ع) کو گالیاں دیتاہے فرمایا اسے بلاؤ؟ ایک شخص نے آکر بلایا، اس نے کہا کس نے بلایا ہے؟ کہا حسن (ع) بن علی (ع) نے۔
وہ آیا اور آکر سلام کیا، حضرت حسن (ع) بن علی (ع) نے کہا کہ تیرا ہی نام معاویہ بن خدیج ہے؟
اس نے کہا بیشک …؟
فرمایا تو ہی حضرت علی (ع) کو گالیاں دیتاہے؟
وہ شرمند ہ ہوکر خاموش ہوگیا
آپ نے فرمایا ، آگاہ ہوجا کہ اگر تو حوض کوثر پر وارد ہوا جس کا کوئی امکان نہیں ہے تو دیکھے گا کہ حضرت علی (ع) کمر کو کسے ہوئے منافقین کو یوں ہنکار ہے ہوں گے جس طرح چشمہ سے اجنبی اونٹ ہنکائے جاتے ہیں جیسا کہ پروردگار نے فرمایا ہے کہ ” رسوائی اور ناکامی افترا پردازوں کا مقدر ہے“۔ سورہ طٰہ آیت
61
( المعجم الکبیر
3
ص
91
/
2758
، سیر اعلام النبلاء
3
ص
39