read

فصل چہارم: اہلبیت(ع) کے مظالم کے بارے میں اخبار پیغمبر اکرم

1124
۔ رسول
اکرم!
افسوس آل محمد کے بچوں پر کیسا ظلم ہونے والا ہے اس حاکم کی طرف سے جسے دولت کی بنیاد پر حاکم بنادیا جائے گا۔( الفردوس
4
ص
307
/
7147
، الجامع الصغیر
2
ص
718
/
6939
نقل از ابن عساکر روایت سلمہ بن الاکوع، کنز العمال
14
ص
593
/
39679
روایت اصبغ بن نباتہ، بشارة المصطفیٰ ص
203
روایت ابوطاہر)۔
1125
۔ رسول
اکرم!
روز قیامت قرآن ، مسجد اور عترت اس طرح فریاد کریں گے کہ قرآن کہے گا خدایا ان لوگوں نے پارہ پارہ کیا ہے اور جلایاہے اور مسجد کہے گی خدایا انہوں نے مجھے خراب بنادیاہے اور غیر آباد چھوڑ دیاہے اور عترت کہے گی خدایا انہوں نے مجھے نظر انداز کیا ہے ، قتل کیا ہے اور آوارہ وطن کردیاہے اور میں سب کی طرف سے وکالت کے لئے گھٹنہ ٹیک دوں گا تو آواز آئے گی کہ یہ میرے ذمہ ہے اور میں اس محاسبہ کے لئے تم سے اولیٰ ہے۔( کنز العمال
11
ص
193
/
31190
نقل از طبرانی و ابن حنبل و سعید بن منصور، خصال صدوق (ر)
175
/
232
روایت جابر)۔
1126
۔ رسول
اکرم!
عنقریب میرے اہلبیت (ع) میرے بعد میری امت کی طرف سے قتل اور آوارہ وطنی کا شکار ہوں گے اور ان کے سب سے بدتر دشمن بنوامیہ ، بنو مغیرہ اور بنو مخروم ہوں گے۔( مستدرک حاکم
4
ص
534
/
8500
، الملاحم والفتن ص
28
روایت ابوسعید خدری، اثبات الہداة
2
ص
263
/
177
1127
۔ جابر از امام باقر (ع
)!
جب آیت ” یوم ندعو کل اناس بامامھم “ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا آپ تمام لوگوں کے امام نہیں ہیں ؟ فرمایا میں تمام لوگوں کے لئے رسول ہوں اور میرے بعد میرے اہلبیت(ع) میں سے اللہ کی طرف سے کچھ امام ہوں گے جو لوگوں میں قیام کریں گے تو لوگ انھیں جھٹلائیں گے اور حکام کفر و ضلالت اور ان کے مرید ان پر ظلم کریں گے۔
اس وقت جو ان سے محبت کرے گا، ان کا اتباع کرے گا اور ان کی تصدیق کرے گا وہ مجھ سے ہوگا، میرے ساتھ ہوگا، مجھ سے ملاقات کرے گا اور جو ان پر ظلم کرے گا، انھیں جھٹلائے گا وہ نہ مجھ سے ہوگا اور نہ میرے ساتھ ہوگا بلکہ میں اس سے بری اور بیزار ہوں۔ ( کافی
1
ص
215
/
1
محاسن
1
ص
254
/
480
، بصائر الدرجات
33
/
1
1128
۔ رسول
اکرم!
حسن (ع) و حسین(ع) اپنی امت کے امام ہوں گے اپنے پدر بزرگوار ہے کہ بعد اور یہ دونوں جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کی والدہ تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں اور ان کے باپ سید الوصیین ہیں اور حسین (ع) کی اولاد میں نو امام ہوں گے جن میں نواں ہماری اولاد کا قائم ہوگا ان سب کی اطاعت میری اطاعت اور ان کی معصیت میری معصیت ہے۔میں ان کے فضائل کے منکر اور ان کے احترام کے ضائع کرنے والوں کے خلاف روز قیامت فریاد کروں گا اور خدا میری ولایت اور میری عترت اور ائمہ امت کی نصرت کے لئے کافر ہے اور وہی ان کے حق کے منکرون سے انتقام لینے والا ہے و سیعلم الذین ظلموا ایَّ منقلب ینقلبون ( شعراء ص
227
،( کمال الدین ص
260
/
6
فرائد السمطین
1
ص
54
/
19
روایت حسین بن خالد)۔
1129
۔ جنادہ بن ابی
امیہ!
میں حضرت حن(ع) بن علی (ع) کے پاس مرض الموت میں وارد ہوا جب آپ کے سامنے طشت رکھا تھا اومعاویہ کے زہر کے اثر سے مسلسل خون تھوک رہے تھے میں نے عرض کی حضور ! یہ کیا صورت حال ہے، آپ علاج کیوں نہیں کرتے؟
فرمایا: عبداللہ! موت کا کیا علاج ہے؟
میں نے کہا ” اِنَّا للہ ِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ راَجِعُون“ اس کے بعد آپ نے میری طرف رخ کرکے فرمایا یہ رسول اکرم کا ہم سے عہد ہے کہ اس امر کے مالک علی (ع) و فاطمہ (ع) کی اولاد سے کل بارہ امام ہوں گے اور ہر ایک زہریا تلوار سے شہید کیا جائے گا، اس کے بعد طشت اٹھا لیا گیا اور آپ ٹیک لگاکر بیٹھ گئے۔(کفایةالاثر ص
226
، الصراط المستقیم
2
ص
128
1130
۔ امام صادق (ع
)!
رسول اکرم نے حضرت علی (ع) حسن (ع) اور حسین (ع) کو دیکھ کر گریہ فرمایا اور فرمایا کہ تم میرے بعد مستضعف ہوگے۔ (معانی الاخبار
79
/
1
1131
۔ امام صادق (ع)! رسول اکرم کا آخری وقت تھا، آپ غش کے عالم میں تھے تو فاطمہ (ع) نے رونا شروع کیا ، آپ نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ فاطمہ (ع) کہہ رہی ہیں، آپ کے بعد میرا کیا ہوگا ؟ تو فرمایا کہ تم سب میرے بعد مستضعف ہوگے ۔( دعائم الاسلام
1
ص
225
، ارشاد
1
ص
184
، امالی مفید (ر)
212
/
2
، مسند ابن حنبل
1
ص
257
/
26940
، المعجم الکبیر
25
ص
23
/
32
1132
۔ رسول اکرم نے بنی ہاشم سے فرمایا کہ تم سب میرے بعد مستضعف
ہوگے (
عیون اخبار الرضا (ع)
2
ص
61
/
244
روایت حسن بن عبداللہ از امام رضا (ع) ، کفایتہ الاثر ص
118
روایت ابوایوب
) ۔
1133
۔ ابن
عباس!
حضرت علی (ع) نے رسول اکرم سے عرض کی کہ کیا آپ عقیل کو دوست رکھتے ہیں ؟ فرمایا دوہری محبت ! اس لئے بھی کہ ابوطالب ان سے محبت کرتے تھے اور اس لئے بھی کہ ان کافرزند تمھارے لال کی محبت میں قتل کیا جائے گا اور مومنین کی آنکھیں اس پر اشکبار ہوں گے اور ملائکہ مقربین نماز جنازہ ادا کریں گے، یہ کہہ کر حضرت نے رونا شروع کیا ، یہاں تک کہ آنسؤوں کی دھار سینہ تک پہنچ گئی اور فرمایا کہ میں خدا کی بارگاہ میں اپنی عترت کے مصائب کی فریاد کروں گا۔( امالی صدوق (ر)
111
/
3
1134
۔ انس بن
مالک!
میں رسول اکرم کے ساتھ علی (ع) بن ابی طالب (ع) کے پاس عیادت کے لئے گیا تو وہاں ابوبکر و عمر بھی موجود تھے، دونوں ہٹ گئے اور حضور بیٹھ گئے تو ایک نے دوسرے سے کہا عنقریب یہ مرنے والے ہیں ! حضرت نے فرمایا یہ شہید ہوں گے اور اس وقت تک دنیا سے نہ جائیں گے جب تک ان کا دل رنج و الم سے مملو نہ ہوجائے ۔(
مستدرک حاکم
3
ص
150
/
4673
، تاریخ دمشق حالات امام علی (ع)
3
ص
74
/
1118
ص
267
/
1343
1135
۔
جابر!
رسول اکرم نے حضرت علی (ع) سے فرمایا کہ تم کو خلیفہ بنایا جائے گا ، پھر قتل کیا جائے اور تمھاری داڑھی تمھارے سر کے خون سے رنگین ہوگی ۔( المعجم الکبیر
2
ص
247
/
2038
، المعجم الاوسط
7
ص
218
/
7318
، دلائل النبوة ابونعیم ص
553
/
491
، تاریخ دمشق حالات امام علی (ع)
3
ص
268
/
1345
1136
۔
عائشہ!
میں نے رسول اکرم کو دیکھا کہ آپ نے علی (ع) کو گلے سے لگایا ، بوسہ دیا اور فرمایا ، میرے ماں باپ قربان اس یکتا شہید پر جو تنہائی میں شہید کیا جائے گا۔( مسند ابویعلی ٰ
4
ص
318
/
4558
، تاریخ دمشق حالات امام علی (ع)
3
ص
285
/
1376
، مناقب خوارزمی ص
65
/
34
، مناقب ابن شہر آشوب
2
ص
220
1137
۔ امام علی (ع
)!
رسول اکرم میرے ہاتھ کو پکڑے ہوئے مدینہ کی گلیوں میں چل رہے تھے کہ ہمارا گذرا ایک باغ کی طرف سے ہوا، میں نے عرض کی کہ حضور کس قدر حسین یہ باغ ہے؟
فرمایا ، تمھارے لئے جنت میں اس سے بہتر ہے ، پھر دوسرے باغ کو دیکھ کر میں نے پھر تعریف کی اور آپ نے پھر وہی فرمایا، یہاں تک کہ ہمارا گذر سات باغات کے پاس سے ہوا اور ہر مرتبہ میں نے بھی وہی کہا اور حضرت نے بھی وہی جواب دیا ۔
یہاں تک کہ جب تنہائی کی منزل تک پہنچ گئے تو آپ نے مجھے گلے سے لگایا اوربیساختہ رونے لگے ، میں نے عرض کی حضور ! یہ رونے کا سبب کیا ہے؟ فرمایا لوگوں کے دلوں میں کینے ہیں، جو میرے بعد ظاہر ہوں گے ؟
میں نے عرض کی حضور! میرا دین سلامت رہے گا ؟
فرمایا بیشک ! ( سنن ابویعلی
1
ص
285
/
561
، تاریخ بغداد
12
ص
398
، مناقب خوارزمی ص
65
/
35
، تاریخ دمشق حالات امام علی (ع)ص
321
/
827
،
831
، ایضاح ص
454
، فضائل الصحابہ ابن حنبل
2
ص
653
/
1109
1138
۔ رسول
اکرم!
میرا فرزند حسن (ع) زہر سے شہید کیا جائے گا ۔( کتاب سلیم بن قیس
2
ص
838
روایت عبداللہ بن جعفر ، الخرائج و الجرائح
3
ص
1143
/
55
، عوالی اللئالی
1
ص
199
/
14
1139
۔ ام
سلمہ!
رسول اکرم ایک دن سونے کے لئے لیٹے اور پھر گھبرا کر اٹھ گئے۔
پھر لیٹ کر سوگئے پھر چونک کر اٹھ گئے ، پھر تیسری مرتبہ ایسا ہی ہوا اور اب جو اٹھے تو آپ کے ہاتھوں میں ایک سرخ مٹی تھی جسے بوسہ دے رہے تھے ، میں نے عرض کی حضور ! یہ خاک کیسی ہے؟
فرمایا مجھے جبریل نے خبردی ہے کہ میرا یہ حسین (ع) سرزمین عراق پر قتل کیا جائے گا ، میں نے جبریل سے کہا کہ مجھے وہ خاک دکھلادو تو انھوں نے یہ مٹی دی ہے۔( مستدرک حاکم
4
ص
440
/
8202
، المعجم الکبیر
3
ص
109
/
2821
، تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع) ص
173
/
221
، اعلام الوریٰ ص
43
1140
۔ سحیم از انس بن حارث ، میں نے رسول اکرم سے سناہے کہ میرا یہ فرزند سرزمین عراق پر قتل کیا جائے گا لہذا جو اس وقت تک رہے اس کا فرض ہے کہ اس کی نصرت کرے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انس بن حارث امام حسین (ع) کے ساتھ شہید ہوگئے ۔( دلائل النبوة ابونعیم
554
/
493
، تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع)
239
/
283
، اصابہ
1
ص
271
/
266
، اسدالغابہ
1
ص
288
/
246
، البدایتہ والنہایتہ
8
ص
199
، مقتل الحسین خوارزمی
1
ص
159
، ذخائر العقبیٰ ص
146
1141
۔ انس بن
مالک!
فرشتہ باران نے مالک سے اذن طلب کیا کہ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جب اذن مل گیا تو آپ نے ام سلمہ سے فرمایا کہ دیکھو دروازہ سے کوئی داخل نہ ہونے پائے، اتنے میں حسین (ع) آگئے ام سلمہ نے روکا لیکن وہ داخل ہوگئے اور کبھی حضور کی پشت پر ، کبھی کاندھوں پر کبھی گردون پر ۔!
فرشتہ نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟
فرمایا بیشک ، کہا لیکن اسے تو آپ کی امت قتل کردے گی اور آپ چاہیں تو میں وہ جگر بھی دکھلادوں؟
یہ کہہ کر ہاتھ مارا اور ایک سرخ مٹی لاکر دیدی، ام سلمہ نے آپ سے لے کر چادر میں رکھ لیا۔
اس روایت کے ایک راوی ثابت کا بیان ہے کہ وہ خاک کربلا کی خاک تھی ۔( مسند ابن حنبل
4
ص
482
/
13539
، المعجم الکبیر
3
ص
106
/
2813
،مسند ابویعلی ٰ
3
ص
370
/
3389
، دلائل
النبوة ابونعیم
553
/
492
، تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع)
168
/
217
، مقتل الحسین (ع) خوارزمی
1
ص
160
، ذخائر العقبیٰ ص
146
1142
۔ام
سلمہ!
ایک دن پیغمبر اسلام میرے گھر میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے فرمایا خبردار کوئی گھر میں آنے نہ پائے، میں دیکھتی رہی کہ اچانک حسین (ع) داخل ہوگئے اور میں نے رسول اکرم کی صدائے گریہ سنی ، اب جو دیکھا تو حسین (ع) آپ کی گود میں تھے اور پیغمبر ان کی پیشانی کو پونچھ رہے تھے، میں نے عرض کی کہ مجھے نہیں معلوم ہوسکا کہ یہ کب آگئے، آپ نے فرمایا کہ جبریل یہاں حاضر تھے، انھوں نے پوچھا کیا آپ حسین (ع) سے محبت کرتے ہیں ؟
میں نے کہا بیشک !
جبرئیل نے کہا مگر آپ کی امت اسے کربلا نامی زمین پر قتل کردے گی اور انھوں نے یہ خاک بھی دکھلائی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب حسین (ع) نزغہ میں گھر کر اس سرزمین پر پہنچے تو دریافت کیا کہ اس زمین کا نام کیا ہے؟
اور جب لوگوں نے کربلا بتایا تو فرمایا کہ خدا و رسول نے سچ فرمایاہے” یہ کرب و بلا کی زمین ہے“ ۔( المعجم الکبیر
3
ص
108
/
2819
1143
۔ عبداللہ بن بخی نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ وہ حضرت علی (ع) کے ہمراہ سفر تھے اور طہارت کے منتظم تھے، جب صفین جاتے ہوئے آپ نینویٰ پہنچے تو آپ نے فرمایا ۔ عبداللہ صبر ، ابوعبداللہ
صبر!
میں نے عرض کی حضور یہ کیا ہے ؟
فرمایا کہ میں ایک دن رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، میں نے عرض کی حضور خیر تو ہے کیا کسی نے اذیت دی ہے؟
فرمایا ابھی میرے پاس سے جبریل گئے ہیں اور یہ بتاکر گئے ہیں کہ میرا حسین (ع) فرات کے کنارے شہید کیا جائے گا اور اگر آپ چاہیں تو میں وہ خاک دکھلا سکتاہوں اور یہ کہہ کر ایک مٹھی خاک مجھے دی اور میں اسے دیکھ کر ضبط نہ کرسکا۔( مسند احمد بن حنبل العقبئ ص
184
/
648
، المعجم الکبیر
3
ص
105
/
2811
، مسند ابویعلی ٰ
1
ص
206
/
358
، ذخائر العقبئٰ ص
148
، مناقب کوفی
2
ص
253
/
19
، الملاحم
والفتن ص
104
باب
24
، تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع) ص
165
۔
171
)
1144
۔ محمد بن عمرو بن
حسن!
میں حسین (ع) کے ساتھ نہر کربلا کے کنارہ تھا کہ آپ نے شمر کو دیکھ کر فرمایا کہ خدا و رسول نے سچ فرمایا تھا جب رسول اکرم نے خبردی تھی کہ میں کتے کو دیکھ رہاہوں جو میرے اہلبیت(ع) کے خون کو چاٹ رہاہے، اور شمر مبروص تھا۔( الخصائص الکبریٰ السیوطی
2
ص
125
1145
۔ امام علی (ع)! رسول اکرم ہمارے گھر تشریف لے آئے تو ہم نے حلوہ تیار کیا اور ام سلمہ نے ایک کاسہ شیر ، مکھن اور کھجور فراہم کیا ، ہم سب نے مل کر کھایا ، میں نے حضرت کا ہاتھ دھلایا، آپ نے
روبقبلہ ہوکر دعا فرمائی اور پھر زمین کی طرف جھک کر بے ساختہ رونے لگے، ہم گھبرا گئے کہ کس طرح دریافت کریں اچانک حسین (ع) آگئے اور بڑھ کر کہا کہ یہ آپ کیا کررہے ہیں ؟
فرمایا آج تمھارے بارے میں وہ سناہے جو کبھی نہ سنایا گیا تھا۔
ابھی جبریل امین آئے تھے اور انھوں نے بتایا کہ تم سب قتل کئے جاؤگے اور سب کے مقتل بھی الگ الگ ہوں گے ، میں نے تمھارے حق میں دعا کی اور میں اس خبر سے مخزون ہوگیا ۔
حسین (ع) نے عرض کی کہ جب سب الگ الگ ہوں گے تو ہماری قبر کی زیارت اور نگرانی کون کرے گا ؟
فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہوگا جو میرے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہے گا اور جب روز قیامت ہوگا اس گروہ کو دیکھ کر اس کا بازو تھام کر اسے ہول و مصیبت محشورسے نجات دلاؤں گا۔( مقتل الحسین (ع) خوارزمی
2
ص
166
، بشارة المصطفیٰ ص
195
روایت محمد بن الحسین ازامام زین العابدین (ع) ، اعلام الوریٰ ص
44