read

فصل چہارم: انتظار حکومت اہلبیت (ع)

1209
۔ اسماعیل
الجعفی!
ایک شخص امام باقر (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے پاس ایک صحیفہ تھا جس کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ یہ مخاصم کا صحیفہ ہے جس میں اس دین کے بارے میں سوال کیا گیا ہے جس میں عمل قبول ہوجاتاہے اس نے کہا خدا آپ پر رحمت نازل کرے میں بھی یہی چاہتا تھا؟
فرمایا لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ و ان محمداً عبدہ و رسولہ کی شہادت اور تمام احکام الہیہ اور ہم اہلبیت(ع) کی ولایت کا اقرار اور ہمارے دشمنوں سے برائت اور ہمارے احکام کے آگے سر تسلیم خم کردینا اور احتیاط و تواضع اور ہمارے قائم کا انتظار یہی وہ دین ہے جس کے ذریعہ سے اعمال قبول ہوتے ہیں اور یہ انتظار اس لئے ضروری ہے کہ ہماری بھی ایک حکومت ہے اور پروردگار جب چاہے گا اسے منظر عام پر لے آئے گا۔( کافی
2
ص
22
/
13
، امالی طوسی (ر)
179
/
299
1210
۔ امام علی (ع)! ہمارے امر کا انتظار کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے کوئی راہ خدا میں اپنے خون میں لوٹ رہاہو۔( خصال
625
/
10
، کمال الدین
645
/
6
روایت محمد بن مسلم عن الصادق (ع) ، تحف العقول ص
115
1211
۔ زید بن صوحان نے امیرالمومنین (ع) سے دریافت کیا کہ سب سے زیادہ محبوب پروردگار کونسا عمل ہے؟ فرمایا انتظار کشائش حال۔ ( الفقیہ
4
/
383
/
5833
روایت عبداللہ بن بکر المرادی)۔
1212
۔ اما م باقر (ع)! تم میں جو شخص اس امر کی معرفت رکھتاہے اور اس کا انتظار کررہاہے اور اس میں خیر سمجھتاہے وہ ایسا ہی ہے کہ جیسے راہ خدا میں قائم آل محمد کے ساتھ تلوار لے کر جہاد کررہاہو۔(مجمع البیان
9
ص
359
روایت حارث بن المغیرہ ، تاویل الآیات الظاہرہ ص
640
1213
۔ امام باقر (ع)! تمھارے مضبوط کو چاہئے کہ کمزور کو طاقتور بنائے اور تمھارے غنی کا فرض ہے کہ فقیر پر توجہ دے اور خبردار ہمارے راز کو فا ش نہ کرنا اور ہمارے امر کا اظہار نہ کرنا اور جب ہماری طرف سے کوئی حدیث آئے تو اگر کتاب خدا میں ایک یا دو شاہد مل جائیں تو اسے قبول کرلینا
ورنہ توقف کرنا اور اسے ہماری طرف پلٹا دینا تا کہ ہم اس کی وضاحت کرسکیں اور یاد رکھو کہ اس امر کا ا نتظار کرنے والا نماز گذار اور روزہ دار کا ثواب رکھتاہے اور جو ہمارے قائم کا ادراک کرلے اور ان کے ساتھ خروج کرکے ہمارے دشمن کو قتل کردے اسے
بیس شہیدوں کا اجر ملے گا اور جو ہمارے قائم کے ساتھ قتل ہوجائے گا اسے
25
شہیدوں کے اجر سے نوازا جائے گا ۔ (کافی
2
ص
222
/
4
روایت عبداللہ بن بکیر ، امالی طوسی (ر)
232
/
410
، بشارة المصطفیٰ ص
113
روایت جابر )۔
1214
۔ امام باقر (ع)! اگر کوئی شخص ہمارے امر کے انتظار میں مرجائے تو اس کا کوئی نقصان نہیں ہے جبکہ اس نے امام مہدی (ع) کے خیمہ اور آپ کے لشکر کے ساتھ موت نہیں پائی ہے۔( کافی
1
ص
372
/
6
روایت ہاشم )۔
1215
۔ امام صادق (ع)! جو ہمارے امر کا منتظر ہے اور اس را ہ میں اذیت و خوف کو برداشت کررہاہے وہ کل ہمارے زمرہ میں ہوگا۔( کافی
8
ص
37
/
7
روایت حمران )۔
1216
۔ امام صادق (ع
)!
ہمارے بارھویں کا انتظار کرنے والا رسول اکرم کے سامنے تلوار لے کر جہاد کرنے والے کے جیسا ہے جبکہ وہ رسول اکرم سے دفاع بھی کررہاہو۔( کمال الدین
335
/
5
، الغیبتہ النعمانی
91
/
21
، اعلام الوریٰ ص
404
روایت ابراہیم کوفی)۔
1217
۔ امام صادق (ع)! جو اس امر کے انتظار میں مرجائے وہ ویسا ہی ہے جیسے قائم کے ساتھ ان کے خیمہ میں رہاہو بلکہ ایسا ہے جیسے رسول اکرم کے سامنے تلوار لے کر جہاد کیاہو۔( کمال الدین
338
/
11
روایت مفضل بن عمر)۔
1218
۔ امام صادق (ع
)!
جو شخص یہ چاہتاہے کہ اس کا شمال حضرت قائم (ع) کے اصحاب میں ہو اس کا فرض ہے کہ انتظار کرے اور تقویٰ اور حسن اخلاق کے ساتھ عمل کرے کہ اس حالت میں اگر مر بھی جائے اور قائم کا قیام اس کے بعد ہو تو اس کو وہی اجر ملے گا جو حضرت کے ساتھ رہنے والوں کا ہوگا لہذا تیاری کرو اور انتظار کرو تمھیں مبارک ہو اے وہ گروہ جس پر خدا نے رحم کیا ہے۔( الغیبتہ للنعمانی
200
/
16
روایت ابوبصیر)۔
1219
۔ امام جواد (ع
)!
خدایا اپنے اولیاء کو اقتدار دلوادے ان ظالموں کے ہاتھ سے جنھوں نے میرے مال کو اپنا مال بنالیا ہے اور تیرے بندوں کو اپنا غلام بنالیاہے تیری زمین کے عالم کو گونگے، اندھے، تاریک ، اندھیرے میں چھوڑدیاہے جہاں آنکھ کھلی ہوئی ہے لیکن دل اندھے ہوگئے ہیں اور ان کے لئے تیرے سامنے کوئی حجت نہیں ہے، خدایا تو نے انھیں اپنے عذاب سے ڈرایا، اپنی سزا سے آگاہ کیا، اطاعت گذاروں سے نیکی کا وعدہ کیا ، برائیوں پر ڈرایا دھمکایا تو ایک گروہ ایمان لے آیا، خدایا اب اپنے صاحبان ایمان کو دشمنوں
پر غلبہ عنایت فرما کہ وہ سب ظاہل ہوگئے ہیں اور حق کی دعوت دے رہے ہیں اور امام منتظر قائم بالقسط کا اتباع کررہے ہیں ۔( نہج البلاغہ)۔
1220
۔ امام ہادی (ع)! زیارت جامعہ ، میں خدا کو اور آپ حضرات کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں آپ کی واپس کا ایمان رکھتاہوں، آپ کی رجعت کی تصدیق کرتا ہوں اور آپ کے امر کا انتظار کررہاہوں اور آپ کے حکومت کی آس لگائے بیٹھاہوں۔( تہذیب
6
ص
98
/
177