read

فصل پنجم: دعائے حکومت اہلبیت (ع)

1221
۔ امام زین العابدین (ع)! پروردگار ! اہلبیت (ع) پیغمبر کے پاکیزہ کردار افراد پر رحمت نازل فرما جنھیں تو نے اپنے امر کے لئے منتخب کیا ہے۔ اور اپنے علم کا مخزن ، اپنے دین کا محافظ ، اپنی زمین
میں اپنا خلیفہ اور اپنے بندوں پر اپنی حجت قرار دیاہے، انھیں اپنے ارادہ سے ہر رجس سے پاکیزہ بنایاہے اور اپنی ہستی کا وسیلہ اور اپنی جنت کا راستہ قرار دیاہے۔
خدایا اپنے ولی کو اپنی نعمتوں کے شکریہ کی توفیق کرامت فرما اور ہمیں بھی ایسی ہی توفیق دے، انھیں اپنی طرف سے سلطنت و نصرت عطا فرما اور بآسانی فتح مبین عطا فرما، اپنے محکم رکن کے ذریعہ ان کی امداد فرما، ان کی کمر کو مضبوط اور ان کے بازو کو قوی بنا، اپنی نگاہوں سے ان کی نگرانی اور اپنی حفاظت سے ان کی حمایت فرما، اپنے ملائکہ سے ان کی نصرت اور اپنے غالب لشکر سے امداد فرما، ان کے ذریعہ کتاب و حد و شریعت و سنن رسول کو قائم فرما اور جن آثار دین کو ظالمین نے مردہ بنادیاہے انھیں زندہ بنادے، اپنے راستہ سے ظلم کی کثافت کو دور کردے اور اپنے طریق سے نقصانات کو جدا کردے راہ حق سے منحرف لوگوں کو زائل کردے اور کجی کے طلبگاروں کو محو کردے، ان کے مزاج کو چاہنے والوں کے لئے نرم کردے اور ہاتھوں کو دشمنوں پر غلبہ عنایت فرما ہمیں ان کی رافت ، رحمت ، مہربانی اور محبت عطا فرما اور ان کا اطاعت گذار اور خدمت شعار بنادے کہ ہم ان کی رضا کی سعی کریں، ان کی امداد اور ان سے دفاع کے لئے ان کے گرد رہیں اور اس عمل کے ذریعہ تیرا اور تیرے رسول کا قرب حاصل کرسکیں۔ (صحیفہ سجادیہ دعاء نمبر
47
ص
190
۔
191
، اقبال الاعمال
2
ص
91
1222
۔ امام باقر (ع
)!
نماز جمعہ کے دوسرے خطبہ کی تعلیم دیتے ہوئے، پروردگار ! ہم تجھ سے باعزت حکومت کے طلبگار ہیں جس کے ذریعہ اسلام اور اہل اسلام کو عزت
نصیب ہو اور نفاق و اہل نفاق ذلیل ہوں، ہمیں اپنی اطاعت کا داعی اور اپنے راستہ کے قائدین میں قرار دیدے اور اسی حکومت کے ذریعہ دنیا و آخرت کی کرامت عطا فرما۔( کافی
3
ص
424
/
6
روایت محمد بن مسلم)۔
1223
۔ امام صادق (ع)! خدایا محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور امام مسلمین پر رحمت نازل فرما اورانھیں سامنے ، پیچھے، داہنے، بائیں ، اوپر ، نیچے ہر طرف سے محفوظ رکھ انھیں آسان فتح عنایت فرما اور باعزت نصرت عطا فرما، ان کے لئے سلطنت و نصرت قرار دیدے ، خدایا آل محمد کے سکون و آرام میں عجلت فرما اور جن و انس میں ان کے دشمنوں کو ہلاک کردے۔ ( مصباح المتہجد ص
392
، جمال الاسبوع ص
293
1224
۔ امام کاظم (ع)! سجدہ شکر کا ذکر کرتے ہوئے۔
خدایا میں واسطہ دیتاہوں اس وعدہ کا جو تو نے اپنے اولیاء سے کیا ہے کہ انھیں اپنے اور ان کے دشمنوں پر فتح عنایت فرمائے گا کہ محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور آل محمد کے محافظین دین پر رحمت نازل فرما ۔ خدایا میں ہر تنگی کے بعد سہولت کا طلب گار ہوں ۔( کافی
3
ص
225
/
17
روایت عبداللہ بن جندب)۔
1225
۔ امام رضا (ع
)!
امام زمانہ (ع) کے حق میں دعا کی تعلیم دیتے ہوئے۔
خدایا اپنے ولی ، خلیفہ، مخلوقات پر اپنی حجت، اپنے حکم کے ساتھ بولنے والے اور اپنے مقاصد کی تعبیر کرنے والی زبان، اپنے اذن سے دیکھنے والی آنکھ ، اپنے بندوں پر اپنے شاہد، سردارمجاہد، اپنی پناہ میں رہنے والے اور اپنی عبادت کرنے والے سے دفاع فرما، اسے تمام مخلوقات کے شر سے اپنی پناہ میں رکھنا اور سامنے، پیچھے، داہنے، بائیں، اوپر نیچے سے اس کی ایسی حفاظت فرما جس کے بعد بربادی کا اندیشہ نہ رہے اور اس کے ذریعہ اپنے رسول اور اس کے آباء و اجداد کا تحفظ فرما جو سب تیرے امام اور تیرے دین کے ستون تھے، اسے اپنی امانت میں قرار دیدے جہاں بربادی نہیں اور اپنے ہمسایہ میں قرار دیدے جہاں تباہی نہیں اور اپنی پناہ میں قرار دیدے جہاں ذلت نہیں اور اپنی امان میں لے لے جہاں رسوائی کا خطرہ نہیں، اپنے زیر سایہ قرار دیدے جہاں کسی اذیت کا امکان نہیں، اپنی غالب نصرت کے ذریعہ اس کی امداد فرما اور اپنے قوی لشکر کے ذریعہ اس کی تائید فرما، اپنی قوت سے اسے قوی بنادے اور اپنے ملائکہ کو اس کے ساتھ کردے، اس کے دوستوں سے
محبت فرما اور اس کے دشمنوں سے دشمنی کر، اسے اپنی محفوظ زرہ پہنادے اور ملائکہ کے حلقہ میں رکھ دے۔
اس کے ذریعہ انتشار کو دور کردے، شگاف کو پر کردے، ظلم کو موت دیدے، عدل کو غالب بنادے، اس کے طول بقاء سے زمین کو موت دیدے، عدل کو غالب بنادے، اس کے طول بقاء سے زمین کو زینت دیدے اور اپنی نصرت سے اس کی تائید فرما ، اپنے رعب سے اس کی امداد فرما، اس کے مددگاروں کو قوی بنادے، اس سے الگ رہنے والوں کو رسوا کردے، جو دشمنی کرے اسے تباہ کردے اور جو خیانت کرے اسے برباد کردے، اس کے ذریعہ کا فروجابر حکام، ان کے ستون و ارکان سب کو قتل کردے اور گمراہوں کی کمر توڑ دے جو بدعت ایجاد کرنے والے، سنت کو مردہ بنادینے والے اور باطل کو تقویت دینے والے ہیں، اس کے ہاتھوں جابروں کو ذلیل، کافروں اور ملحدوں کو تباہ و برباد کردے وہ شرق و غرب میں ہوں یا برو بحر میں یا صحرا و بیابان میں ، یہاں تک کہ نہ ان کا کوئی باشندہ رہ جانے اور نہ ان کے کہیں آثار باقی رہ جائیں۔
خدایا ان ظالموں سے اپنے شہروں کو پاک کردے اور اپنے نیک بندوں کو انتقام عطا فرما، مومنین کو عزت دے اور مرسلین کی سنت کو زندہ بنادے انبیاء کے بوسیدہ ہوجانے والے احکام کی تجدید فرما اور دین کے جو احکام محو ہوگئے ہیں یا بدل دیئے گئے ہیں انھیں تازہ بنادے تا کہ اس کے ہاتھوں دیں تازہ و زندہ خالص اور صریح ہوکر سامنے آئے نہ کسی طرح کی کجی ہو اور نہ بدعت اور اس کے عدل سے ظلم کی تاریکیوں میں روشنی پیدا ہوجائے اور کفر کی آگ بجھ جائے اور حق و عدل کے عقدے کھل جائیں کہ وہ تیرا ایسا بندہ ہے جسے تو نے اپنے بندوں میں مصطفی قرار دیاہے، گناہوں سے محفوظ اور عیب سے بری رکھاہے اور ہر رجس اور گندگی سے پاک و سالم قرار دیاہے۔
خدایا ہم اس کے لئے روز قیامت گواہی دیں گے کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے اور کسی برائی کا ارتکاب نہیں کیا ہے، کسی اطاعت کو نظر انداز نہیں کیا ہے اور کسی حرمت کو برباد نہیں کیاہے، کسی فریضہ کو بدلا نہیں ہے اور کسی شریعت میں تغیر نہیں پیدا کیاہے، وہ ہدایت یافتہ ، ہادی ، طاہر ، متقی ، پاکیزہ، پسندیدہ اور طیب و طاہر انسان ہے۔
خدایا اسے اس کی ذات، اس کے اہل و اولاد، ذریت و امت اور تمام رعایا میں خنکی چشم، سرور نفس عنایت فرما، تمام مملکتوں کو جمع کردے قریب ہوں یا دور ، عزیز ہوں
یا ذلیل، تا کہ اس کا حکم ہر حکم پر جاری ہوجائے اور اس کا حق ہر باطل پر غالب آجائے۔
خدایا ہمیں اس کے ہاتھوں ہدایت کے راستہ اور دین کی شاہراہ اعظم اور اس کی معتدل راہوں پر چلادے جہاں ہر غالی پلٹ کر آتاہے اور ہر پیچھے رہ جانے والا اس سے ملحق ہوجاتاہے، ہمیں اس کی اطاعت کی وقت اور اس کی پیروی کا ثبات عطا فرما، اس کی متابعت کا کرم فرما اور اس کے گروہ میں شامل کردے جو اس کے امر سے قیام کرنے والے۔ اس کے ساتھ صبر کرنے والے اور اس کی رضا کے مخلص طلب گار ہیں ٹا کہ ہمیں روز قیامت اس کے انصار و اعوان اور اس کی حکومت کے ارکان میں محشور کرے۔
خدایا ہمارے لئے اس مرتبہ کو ہر شک و شبہ سے خالص اور ہر ریاء و سمعہ سے پاکیزہ قرار دیدے تا کہ ہم تیرے غیر پر اعتماد نہ کریں اور تیری رضا کے علاوہ کسی شے کے طلبگار نہ ہوں، ان کی منزل میں ساکن ہوں اور انکے ساتھ جنت میں داخل ہوں ۔
ہمیں ہر طرح کی کسلمندی ، کاہلی ، سستی سے پناہ دے اور ان لوگوں میں قرار دیدے جن سے دین کا کام لیا جاتاہے اور اپنے ولی کی نصرت کا انتظام کیا جاتاہے اور ہماری جگہ پر ہمارے غیر کو نہ رکھ دینا کہ یہ کام تیرے لئے آسان ہے اور ہمارے لئے بہت سخت ہے۔
خدایا اپنے اولیاء عہد اور اس کے بعد کے پیشواؤں پر بھی رحمت نازل فرما اور انھیں ان کی امیدوں تک پہنچا دینا، انھیں طول عمر عطافرما اور ان کی امداد فرما، جو امر ان کے حوالہ کیا ہے اسے مکمل کردے اور ان کے ستونوں کو ثابت بنادے، ہمیں ان کے اعوان اور ان کے دین کے انصار میں قرار دے دے کہ وہ سب تیرے کلمات کے معدن، تیرے علم کے مخزن تیری توحید کے ارکان اور تیرے دین کے ستون اور تیرے اولیاء امر ہیں۔
بندوں میں تیرے خالص بندے اور مخلوقات میں تیرے منتخب اولیاء اور تیرے اولیاء کی اولاد اور اولاد پیغمبر کے منتخب افراد ہیں، میرا سلام پیغمبر پر اور ان کی تمام اولاد پر اور صلوات و برکات و رحمت ۔
( مصباح المتہجد ص
409
، مصباح کفعمی ص
548
، جمائل الاسبوع ص
307
روایات یونس بن عبدالرحمان)۔
1226
۔ امام ہادی (ع) زیارت امام مہدی (ع) میں فرماتے ہیں، پروردگار جس طرح تو نے اپنے پیغمبر پر ایمان
لانے اور ان کی دعوت کی تصدیق کرنے کی توفیق دی اور یہ احسان کیا کہ میں ان کی اطاعت کروں اور ان کی ملت کا اتباع کروں اور پھر ان کی معرفت اور ان کی ذریت کے ائمہ کی معرفت کی ہدایت دی اور ان کی معرفت سے ایمان کو کامل بنایا اور ان کی ولایت کے طفیل اعمال کو قبول کیا اور ان پر صلوات کو وسیلہ عبادت قرار دیدیا اور دعا کی کلی اور قبولیت کا سبب بنادیا، اب ان سب پر رحمت نازل فرما اور ان کے طفیل مجھے اپنی بارگاہ میں دنیا و آخرت میں سرخرو فرما اور بندہٴ مقرب بنادے…
خدایا ان کے وعدہ کو پورا فرما، ان کے قائم کی تلوارسے زمین کی تطہیر فرما، اس کے ذریعہ اپنے معطل حدود اور تبدیل شدہ احکام کے قیام کا انتظار فرما، مردہ دلوں کو زندہ کردے اور متفرق خواہشات کو یکجا بنادے راہ حق سے ظلم کی کثافت کو دور کردے تا کہ اس کے ہاتھوں پرحق بہترین صورت میں جلوہ نما ہوا ور باطل و اہل باطل ہلاک ہوجائیں اور حق کی کوئی بات باطل کے خوف سے پوشیدہ نہ رہ جائے ۔( بحار
102
ص
182
از مصباح الزائر)۔
1227
۔ امام عسکری (ع) ، ولی امر امام (ع) منتظر پر صلوات کی تعلیم دیتے ہوئے۔
خدایا اپنے ولی ، فرزند اولیاء پر رحمت نازل فرما جن کی اطاعت تو نے فرض کی ہے اور ان کا حق لازم قرار دیاہے اور ان سے رجس کو دور کرکے انھیں طیب و طاہر قرار دیاہے۔
خدایا اس کے ذریعہ اپنے دین کو غلبہ عطا فرما، اپنے اور اس کے دوستوں، شیعوں اور مددگاروں کی امداد فرما اور ہمیں انھیں میں سے قرار دیدے، خدایا اسے ہر باغی، طاغی اور شریر کے شر سے اپنی پناہ میں رکھنا اور سامنے، پیچھے ، داہنے بائیں ہر طرف سے محفوظ رہنا، اسے ہر برائی کی پہنچ سے دور رکھنا اور اس کے ذریعہ رسول اور آل رسول کی حفاظت فرمانا ، اس کے وسیلہ سے عدل کو ظاہر فرما، اپنی مدد سے اس کی تائید فرما، اس کے ناصروں کی امداد فرما، اس سے الگ ہوجانے والوں کو بے سہارا بنادے اس کے ذریعہ کا فر جابروں کی کمر توڑ دے اور کفار و منافقین و ملحدوں کو فنا کردے چاہے مشرق میں ہوں یا مغرب میں ، بر میں ہوں یا بحر میں، زمین کو عدل سے معمور کردے اور اپنے دین کو غلبہ عنایت فرما، ہمیں ان کے انصار و اعوان، اتباع و شیعیان میں سے قرار دیدے اور آل محمد کے سلسلہ میں وہ سب دکھلا دے جس کی انھیں خواہش ہے اور دشمنوں کے بارے
میں وہ سب دکھلا دے
جس سے وہ لوگ ڈر رہے ہیں، خدایا آمین، ( مصباح المتہجد ص
405
، جمال الاسبوع ص
300
روایت ابومحمد عبداللہ بن محمد العابد)۔
1228
۔ ابوعلی ابن ہمام، کا بیان ہے کہ حضرت کے نائب خاص شیخ عمری نے اس دعا کو ملاء کرایاہے اور اس کے پڑھنے کی تاکید کی ہے، جو دور غیبت امام قائم کی بہترین دعا ہے۔
خدایا مجھے اپنی ذات کی معرفت عطا فرما کہ اپنی معرفت نہ دے گا تو میں رسول کو بھی نہ پہچان سکوں گا اور پھر اپنے رسول کی معرفت عطا فرما کہ اگر ان کی معرفت نہ دے گا تو میں تیری حجت کو بھی نہ پہچان سکوں گا اور پھر اپنی حجت کی معرفت بھی عطا فرما کہ اگر اسے نہ پہچان سکا تو دین سے بہک جاؤ گا۔
خدایا مجھے جاہلیت کی موت نہ دینا اور نہ ہدایت کے بعد میرے دل کو منحرف ہونے دینا۔
خدایا جس طرح تو نے ان لوگوں کی ہدایت دی جن کی اطاعت کو واجب قرار دیاہے اور جو تیرے رسول کے بعد تیرے اولیاء امر ہیں اور میں نے تیرے تمام اولیاء امیر المومنین (ع) ، حسن (ع) ، حسین (ع) ، علی (ع) ، محمد ، جعفر (ع) ، موسیٰ (ع) ، علی (ع) ، محمد (ع) ، علی (ع) ، حسن (ع) حجت قائم مہدی (عج) سے محبت اختیار کی ہے۔
خدایا اب حضرت قائم (ع) کے ظہور میں تعجیل فرما، اپنی مدد سے ان کی تائید فرما، ان کے مددگاروں کی امداد فرما، ان سے الگ رہنے والوں کو ذلیل فرما، ان سے عداوت کرنے والوں کو تباہ و برباد کردے، حق کا اظہار فرما، باطل کو مردہ بنادے، بندگان مومنین کو ذلت سے نجات دیدے شہروں کو زندگی عطا فرمادے، کفر کے جباروں کو تہ تیغ کردے، ضلالت کے سر براہوں کی کمر توڑدے، جابروں اور کافروں کو ذلیل کردے، منافقوں عہد شکنوں اور شرق و غرب کے ملحدوں، مخالفوں کو ہلاک و برباد کردے چاہے وہ خشکی میں ہوں یا دریاؤں میں، بیابانوں میں ہوں یا پہاڑوں پر ۔ تا کہ ان کی کوئی آبادی نہ رہ جائے اور ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے، زمین کو ان کے وجود سے پاک کردے اور اپنے بندوں کے دلوں کو سکون عطا فرما، جو دین مٹ گیا ہے اس کی تجدید فرما اور جو احکام بدل دیے گئے ہیں ان کی اصلاح فرما، جو سنت بدل گئی ہے اسے ٹھیک کردے تا کہ دین دوبارہ اس کے ہاتھوں ترو تازہ ہوکر سامنے آئے نہ کوئی کجی ہو نہ بدعت نہ انحراف کفر کی آگ بجھ جائے اور ضلالت کا شعلہ خاموش
ہوجائے کہ وہ تیرا وہ بندہ ہے کہ جسے تو نے اپنا بنایاہے، اور اسے دین کی نصرت کے لئے منتخب کیا ہے اور اپنے علم سے چنا ہے اور گناہوں سے محفوظ رکھاہے اور عیوب سے پاک رکھاہے، غیب کا علم دیا ہے اور نعمتوں سے نوازاہے، رجس سے دور رکھاہے اور پاک و پاکیزہ بنایاہے۔
خدایا ہم اس بات کے فریادی ہیں کہ تیرے نبی جاچکے ہیں، تیرا ولی بھی پردہ غیب میں ہے، زمانہ مخالف ہوگیاہے ، فتنے سر اٹھارہے ہیں، دشمنوں نے ہجوم کر رکھاہے اور ان کی کثرت ہے اور اپنی قلت ہے۔
خدایا ان حالات کی اصلاح فرما فوری فتح کے ذریعہ، اور اپنی نصرت کے ذریعہ، اور امام عادل کے ظہور کے ذریعہ، خدائے برحق اس دعا کو قبول کرلے۔
خدایا اپنے ولی کے ذریعہ قرآن کو زندہ کردے اور اس کے نور سرمدی کی زیارت کرادے جس میں کوئی ظلمت نہیں ہے، مردہ دلوں کو زندہ بنادے اور سینوں کی اصلاح کردے، خواہشات کو ایک نقطہ پر جمع کردے معطل حدوداور متروک احکام کو قائم کرادے تا کہ ہر حق منظر پر آجائے اور ہر عدل چمک اٹھے، خدایا ہمیں ان کے مددگاروں اور حکومت کو تقویت دینے والوں میں قرار دیدے کہ ہم ان کے احکام پر عمل کریں، اور ان کے عمل سے راضی رہیں، ان کے احکام کے لئے سراپا تسلیم رہیں اور پھر تقیہ کی کوئی ضرورت نہ رہ جائے۔
خدایا تو ہی برائیوں کو دور کرنے والا ، مضطر افراد کی دعاؤں کا قبول کرنے والا اور کرب و رنج سے نجات دینے والا ہے لہذا اپنے ولی کے ہر رنج و غم کو دور کردے اور اسے حسب وعدہ زمین میں اپنا جانشین بنادے۔
خدایا محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان کے طفیل دنیا و آخرت میں کامیابی اور تقرب عنایت فرما ۔( کمال الدین
512
/
43
، مصباح المتہجد ص
411
، جمال الاسبوع ص
315
1229
۔ دعائے افتتاح۔… خدایا ہم ایسی باعزت حکومت کے خواہشمند ہیں جس سے اسلام و اہل اسلام کو عزت اور نفاق و اہل نفاق کو ذلت نصیب ہو ہمیں اپنی اطاعت کے داعیوں اور اپنے راستہ کے قائدوں میں قرار دیدے اور پھر دنیا و آخرت کی کرامت عطا فرما۔
خدایا جو حق ہم نے پہچان لیا ہے اسے اٹھانے کی طاقت دے اور جسے نہیں پہچان سکے ہیں اس تک پہنچا دے۔
خدایا اس کے ذریعہ ہماری پراگندگی کو جمع کردے، ہمارے درمیان شگاف کو پڑ کردے، ہمارے انتشار کو جمع کردے ۔ہماری قلت کو کثرت اور ہماری ذلت کو عزت میں تبدیل کردے، ہماری غربت کو دولت میں بدل دے اور ہمارے قرض کو ادا کردے، ہمارے فقر کا علاج فرما اورہماری حاجتوں کو پورا فرما۔
ہماری زحمت کو آسان کردے اور ہمارے چہروں کو نورانی بنادے، ہمیں قید سے رہائی عطا فرما اور ہمارے مطالب کو پورا فرما، ہمارے وعدوں کو مکمل فرما اور ہماری دعاؤں کو قبول کرلے، ہمیں تمام امیدیں عطا فرما اور ہماری خواہش سے زیادہ عطا فرما۔
اے بہترین مسئول اور وسیع ترین عطا کرنے والے ، ہمارے دلوں کو سکون عطا فرما اور ہمارے رنج و غم کا علاج فرما، جہاں جہاں حق کے بارے میں اختلاف ہے ہمیں ہدایت فرما کہ تو جسے چاہے صراط مستقیم کی ہدایت دے سکتاہے، اپنے اور ہمارے دشمنوں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما اور اے خدائے برحق ! ہماری اس دعا کو قبول کرلے۔
خدایا ہماری فریاد یہ ہے کہ تیرے نبی جاچکے، تیر اولی غیب میں ہے، دشمنوں کی کثرت ہے، فتنوں کی شدت ہے ، زمانہ کا ہجوم ہے، اب تو محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور ان حالات میں ہماری فوری فتح کے ذریعہ امداد فرما تا کہ رنج و غم دور ہوجائیں، باعزت امداد دے اور حکومت حق کو ظاہر فرما، رحمت کی کرامت عطا فرما اور عافیت کا لباس عنایت فرما دے اپنی رحمت کے سہارے اے بہترین رحمت دینے والے۔( اقبال الاعمال
1
ص
142
روایت محمد بن ابی قرّہ)۔
واضح رہے کہ یہ دعا امام زمانہ عج کی طرف سے ہے جسے نائب دوم محمد بن عثمان بن سعید العمری کے بھتیجہ نے ان کی کتاب سے نقل کیاہے اور یہ ماہ رمضان کی شبوں میں پڑھی جاتی ہے۔!