read

فصل سوم: غالیوں کا کفر

1248
۔ رسول
اکرم!
میری امت کے دو گروہ ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمارے اہلبیت(ع) سے جنگ کرنے والے اور دین میں غلو کرکے حد سے باہر نکل جانے والے۔( الفقیہ
3
ص
408
/
2425
1249
۔ امام صادق (ع)! کم سے کم وہ بات جو انسان کو ایمان سے باہر نکال دیتی ہے یہ ہے کہ کسی غالی کے پاس بیٹھ کر اس کی بات سنے اور پھر تصدیق کردے۔
میرے پدر بزرگوار نے اپنے والد ماجد کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم نے فرمایاہے کہ میری امت کے دو گروہوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے غالی اور قدریہ ۔( خصال
72
/
109
روایت سالم)۔

غالی:

وہ لوگ جو کسی بھی ہستی کو اس کی حد سے آگے بڑھادیتے ہیں اور بندہ کے بارے میں خالق و رازق ہونے کا عقیدہ پیدا کرلیتے ہیں۔

قدریہ:

جو لوگ کہ خیر و شر سب کا ذمہ دار خدا کو قرار دیتے ہیں یا بقولے تقدیر الہی کے سرے سے منکر ہیں۔

تشبیہ:

جو لوگ خالق کو مخلوق کی شبیہ اور اس کے صفات کو مخلوقات کے صفات جیسا قرار دیتے ہیں انھیں مشبہ کہا جاتاہے۔

تفویض:

کائنات کے تمام اختیارات کو بندہ کے حوالہ کرکے خدا کو معطل کردینا۔
1250
۔ امام (ع) صادق نے مفضل سے ابوالخطاب کے اصحاب اور دیگر غالیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا،
مفضل!
خبردار ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا اور مصافحہ و تعلقات نہ رکھنا ۔( رجال کشی (ر)
2
ص
586
/
525
1251
۔ امام صادق (ع)! خدا مغیرہ بن سعید پر لعنت کرے کہ وہ میرے والد پر بہتان باندھتا تھا، خدا نے اسے لوہے کا مزہ چھکادیا، خدا ان تمام افراد پر لعنت کرے جو ہمارے بارے میں وہ کہیں جو ہم خود نہیں کہتے ہیں اور
خدا ان افراد پر لعنت کرے جو ہمیں اس اللہ کی بندگی سے الگ کردیں جس نے ہماری تخلیق کی ہے اور جس کی بارگاہ میں ہم کو واپس جاناہے اور جس کے قبضہ قدرت میں ہماری پیشانیاں ہیں۔( رجال کشی (ر)
2
ص
590
/
542
روایت ابن مسکان)۔
1252
۔ ہاشم
جعفری!
میں نے امام رضا (ع) سے غالیوں اور تفویض والوں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ غالی کافر ہیں اور تفویض کرنے والے مشرک ہیں جو ان کے ساتھ بیٹھتا ہے یا کھاتا پیتاہے یا تعلقات رکھتاہے یا شادی بیاہ کا رشتہ کرتاہے یا انھیں پناہ دیتاہے یا ان کے پاس امانت رکھتاہے یا ان کی بات کی تصدیق کرتاہے یا ایک لفظ سے ان کی مدد کرتاہے وہ ولایت خدا ولایت رسول اور ولایت اہلبیت (ع) سے خارج ہے۔ ( عیون اخبار الرضا
2
ص
203
/
4
1253
۔ حسین بن خالد امام رضا (ع) سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص تشبیہ اور جبر کا عقیدہ رکھتاہے وہ کافر و مشرک ہے اور ہم دنیا و آخرت میں اس سے بیزار ہیں ابن
خالد!
ہماری طرف سے تشبیہ اور جبر کے بارے میں غالیوں نے بہت سی روایتیں تیار کی ہیں اور ان کے ذریعہ عظمت پروردگار کو گھٹایا ہے لہذا جو ان سے محبت کرے وہ ہمارا دشمن ہے اور جو ان سے دشمنی رکھے وہی ہمارا دوست ہے، جو ان کا موالی ہے وہ ہمارا عدو ہے اور جو ان کا عدو ہے وہی ہمارا موالی ہے جس نے ان سے تعلق رکھا اس نے ہم سے قطع تعلق کیا اور جس نے ان سے قطع تعلق کیا اس نے ہم سے تعلق پیدا کیا ۔
جس نے ان سے بدسلوکی کی اس نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا اور جس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اس نے ہمارے ساتھ برا سلوک کیا ، جس نے ان کا احترام کیا اس نے ہماری توہین کی اور جس نے ان کی توہین کی اس نے ہمارا احترام کیا ، جس نے انھیں قبول کرلیا اس نے ہمیں رد کردیا اور جس نے انھیں رد کردیا اس نے ہمیں قبول کرلیا، جس نے ان کے ساتھ احسان کیا اس نے ہمارے ساتھ برائی کی اور جس نے ان کے ساتھ برائی کی اس نے ہمارے ساتھااحسان کیا ، جس نے ان کی تصدیق کی اس نے ہماری تکذیب کی اور جس نے ان کی تکذیب کی اس نے ہماری تصدیق کی ، جس نے انھیں عطا کیا اس نے ہمیں محروم کیا اور جس نے انھیں محروم کیا اس نے ہمیں عطا کیا ۔
فرزند خالد
! جو ہمارا شیعہ ہوگا وہ ہرگز انھیں اپنا دوست اور مددگار نہ بنائے گا ۔( عیون اخبار الرضا (ع)
1
ص
143
/
45
، التوحید ص
364
، الاحتجاج
2
ص
400