read

فصل اول: اہلبیت (ع) والوں کے صفات

” جو میرا اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہوگا“ ( سورہٴ ابراہیم آیت
36
1260
۔ رسول اکرم ۔ ہر متقی انسان میرے وابستگان میں شمار ہوتاہے۔ (الفردوس
1
ص
418
/
1691
روایت انس بن مالک)
1261
۔
انس!
رسول اکرم سے دریافت کیا گیا کہ آل محمد سے کون افراد مراد ہیں؟
فرمایا ہر متقی اور پرہیزگار۔
پروردگار نے فرمایا ہے کہ اس کے اولیاء صرف متقین ہیں۔( المعجم الاوسط
3
ص
338
/
2332
1262
۔ ابوعبیدہ امام باقر (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جو ہم سے محبت کرے وہ ہم
اہلبیت (
ع) سے ہے تو میں نے عرض کی میں آپ پر قربان میں بھی آپ سے ہوں؟
فرمایا بیشک کیا تم نے حضرت ابراہیم (ع) کا قول نہیں سناہے کہ جو میرا اتباع کرے وہ مجھ سے ہے۔( تفسیر عیاشی
2
ص
231
/
32
1263
۔ امام صادق (ع)! جو تم میں سے تقویٰ اختیار کرے اور نیک کردار ہوجائے وہ ہم اہلبیت سے ہے ۔ راوی نے عرض کی کہ آپ سے فرزند رسول ؟
فرمایا بیشک ہم سے ، کیا تم نے پروردگار کا ارشاد نہیں سناہے کہ ” جو ان سے محبت کرے گا وہ ان سے ہوگا“ ( مائدہ
51
اور حضرت ابراہیم (ع) نے کہا ہے کہ جو میرا اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہوگا، ( دعائم الاسلام
1
ص
62
، تفسیر عیاشی
2
ص
231
/
33
روایت محمد الحلبئ)۔
1264
۔ حسن بن موسیٰ الوشاء البغدادی، میں خراسان میں امام رضا (ع) کی مجلس میں حاضر تھا اور زید بن موسیٰ بھی
موجود تھے جو مجلس میں موجود ایک جماعت پر فحر کررہے تھے کہ ہم ایسے ہیں اور ایسے ہیں اور حضرت دوسری قوم سے گفتگو کررہے تھے، آپ نے زید کی بات سنی تو فوراً متوجہ ہوگئے۔
فرمایا ۔ زید ! تمھیں کوفہ کے بقالوں کی تعریف نے مغرور بنادیا ہے، دیکھو حضرت فاطمہ (ع) نے اپنی عصمت کا تحفظ کیا تو خدا نے ان کی ذریت پرجہنم کو حرام کردیا لیکن یہ شرف صرف حسن (ع) و حسین (ع) اور بطن فاطمہ (ع) سے پیدا ہونے والوں کے لئے ہے۔
ورنہ اگر موسیٰ بن جعفر (ع) خدا کی اطاعت میں دن میں روزہ رکھیں رات میں نمازیں پڑھیں اور تم اس کی معصیت کرو اور اس کے بعد دونوں روز قیامت حاضر ہوں اور تم ان سے زیادہ نگاہ پروردگار میں عزیز ہوجاؤ، یہ ناممکن ہے ، کیا تمھیں نہیں معلوم کہ امام زین العابدین (ع) فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے نیک کردار کے لئے دہرا اجر ہے اور بدکردار کے لئے دہرا عذاب ہے۔
حسن وشاء کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت نے میری طرف رخ کرکے فرمایا۔
حسن ! تم اس آیت کو کس طرح پڑھتے ہو؟
” پروردگار نے کہا کہ اے نوح (ع) یہ تمھارے اہل سے نہیں ہے، یہ عمل غیر صالح ہے۔( ہود نمبر
46
تو میں نے عرض کی کہ بعض لوگ پڑھتے ہیں ” عمل غیر صالح “ اور بعض لوگ پڑھتے ہیں ” عمل غیر صالح“ اور اس طرح فرزند نوح ماننے انکار کرتے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں ۔
وہ نوح (ع) کا بیٹا تھا لیکن جب خدا کی معصیت کی تو خدا نے فرزندی سے خارج کردیا۔
یہی حال ہمارے چاہنے والوں کا ہے کہ جو خدا کی اطاعت نہ کرے گا وہ ہم سے نہ ہوگا اور تم اگر ہماری اطاعت کروگے تو ہم اہلبیت(ع) میں شمار ہوجاؤگے۔(معانی الاخبار
106
/
1
، عیون اخبار الرضا (ع)
2
ص
232
/
1